خیبر پختونخوا اسمبلی کی جنرل نشست کے لیے 2024 کے عام انتخابات میں حصہ لینے والی پہلی ہندو خاتون ڈاکٹر سویرا پرکاش نے کہا ہے کہ میں پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے انتخاب لڑ رہی ہوں، پارٹی کی اسپورٹ تو مجھے حاصل ہی ہے، اس کے علاوہ مجھے دوسرے لوگ بھی کھلے دل سے حمایت کر رہے ہیں۔ میرے والد کا تعلق بھی سیاست سے تھا، اس کا فائدہ بھی مجھے مل رہا ہے۔ مجھے پشتو زبان کی وجہ سے بھی حمایت مل رہی ہے، اہل علاقہ نے مجھے بونیر کی بیٹی کا خطاب بھی دیا ہے۔ یہ میرے لیے قابل فکر بات ہے۔
ڈاکٹر سویرا پرکاش نے بھارتی ٹی وی چینل ’آج تک‘ نیوز سے گفتگو میں کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میں پاکستانی ہوں، مجھے اپنے علاقے اور ملک کی نمائندگی کرنا ہے۔ اب بھی اقلیتی کمیونٹی جب چاہے مجھ سے رابطہ کرسکتی ہے، اگر میں پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئی تو اقلیتوں کی بھرپور نمائندگی کروں گی۔ یہی نہیں پاک بھارت کے تعلقات میں بھی پیشرفت کی امید کی جاسکتی ہے۔







