اٹارنی جنرل آفس خیبر پختونخوا نے ایک سالہ کاکردگی رپورٹ جاری کردی

شعیب جمیل

اٹارنی جنرل آفس خیبر پختونخوا نے ایک سالہ کاکردگی رپورٹ جاری کردی ۔ جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران 2571 کیسز نمٹائے گئے جس میں 1174 مقدمات میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل خیبر پختونخوا ثنا اللہ نے وفاقی حکومت کی پیروی کی ۔ اس ضمن میں جاری رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کے ٹیکسز سے متعلق کیسز میں 90 فیصد مقدمات میں حکم امتناع ختم کردی گئی اور صرف ایک مقدمے کے تصفیے سے 22.1 بلین روپے ٹیکس ایف بی آر کو جمع ہوا ۔ ہائیکورٹ ، اٹارنی جنرل آفس اور ایف بی آر کے باہمی تعاون سے مالی معاملات سے متعلق کیسز کے لیے خصوصی بینچز تشکیل دیے گئے ۔ خصوصی بنچ کی تشکیل سے مقدمات بر وقت نمٹانے میں مدد ملی ۔اسی اصول پر دیگر صوبوں میں بھی خصوصی بنچ کی تشکیل کے لیے اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔خصوصی بینچز نے 90 فیصد حکم امتناع کیسز وفاقی حکومت کے حق میں فیصلہ کیے ۔پہلی مرتبہ آٹارنی جنرل خیبر پختونخوا کے آفس سے متعلق ریکارڈ کو سٹریم لائن کیا گیا۔ 2020 سے پوائنٹ آف سیل (پی او ایس ) سے متعلق کیس پر عدالتی حکم امتناع کو ختم کیا گیا ۔ رپورٹ کے مطابق حکم امتناعی ختم ہونے سے وفاقی حکومت کو بڑے پیمانے پر ٹیکس ملنے لگا ۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثنا اللہ کی جانب سے وفاقی حکومت کو ارسال کردہ رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت سے تمام وفاقی محکموں کے فوکل پرسنز اور لیگل ایڈوائزر کی فہرست طلب کر لی گئی ہے اور اس حوالے سے مراسلہ وفاقی حکومت کو لکھا ہے ۔ فہرست کا مقصد عدالتوں میں کیسز کی پیروی کے لیے تمام متعلقہ اہلکاروں کے درمیان رابطے اور نیٹ ورک قائم کرنا ہے تاکہ دوران سماعت بھرپور طریقے سے وفاقی حکومت کی دفاع ہو سکے ۔اس ضمن میں حالیہ اقدامات پر آٹارنی جنرل پاکستان نے توصیفی اسناد کے ساتھ ساتھ پورے ملک اس قسم کے اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed