ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل سمیت 3 افسروں کو نوکری سے برخاست کردیا گیاہے جب کہ ایک ریٹائرڈ فوراسٹار کی نواسی احتسابی عمل سے گزررہی ہے۔
نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرمی ایکٹ کے تحت 102شرپسندوں کاٹرائل جاری ہے،فوج نے روایت کے مطابق خود احتسابی کا عمل مکمل کرلیاہے۔
انہوں نے بتایا کہ 3میجرجنرل اور 7بریگیڈیئرز سمیت 15 افسران کیخلاف تادیبی کارروائی مکمل کی جاچکی ہے۔ مزید کہا کہ تمام ملزمان کومکمل قانونی حقوق حاصل ہیں،فوج میں جتنا بڑا عہدہ ہوتاہے اتنی ہی بڑی ذمہ داری نبھائی جاتی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 9 مئی کا واقعہ پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش تھی، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ تحقیقات سے ثابت ہوا اس واقعہ کی کئی ماہ سے منصوبہ بندی کی جا رہی تھی،جو کام دشمن 75سالوں میں نہ کرسکے،وہ مٹھی بھر لوگوں کے سہولتکاروں نے کردکھایا۔
انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان آئے روز عظیم شہدا کے جنازوں کو کندھا دے رہی ہیں، روزانہ کی بنیاد پر دہشتگردوں کی سرکوبی کی جارہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہداکے خاندان آج کڑے سوال کررہے ہیں، افواج پاکستان کے شہدا کے لواحقین میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں 17اسٹینڈنگ کورٹس کام کررہی ہیں،پہلے سے قائم فوجی عدالتوں میں 102شرپسندوں کا ٹرائل کیاجارہاہے،سول کورٹس نے ان شرپسندوں کا کیس ملٹری کورٹس کو منتقل کیا، تمام ذمہ داروں کو آئین پاکستان کے تحت سزائیں دی جائیں گی۔







