موجودہ مسودہ بجٹ ایک ایسی حکومت کی غیر واضح علامات کو ظاہر کرتا ہے جو یہ نہیں جانتی کہ اسے پیسہ کس طرح استعمال کرنا ہے۔ مثال کے طور پر وفاقی تنخواہوں اور پنشن میں 25-35 فیصد اضافے پر غور کریںتو جس حکومت کا قرضہ ریونیو نیٹ میں سے منفی ہو وہ یہ کیسے کر سکتی ہے؟ اور وہی حکومت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے صرف 12.5 فیصد اضافہ کر تی ہے جو غریب ترین عوام کو دیا جاتا ہے۔ اس سے ظاہر ہو تا ہے کہ حکومت کی ترجیحات عوامی نہیں بلکہ سیاسی ہیں دوسری طرف وفاقی ملازمین اور پنشنرز کے لیے مطلوبہ اضافہ حقیقی شرح سود سے بمشکل زیادہ ہے۔ اس لیے اس کے ارد گرد پھیلی ہوئی نعرے بازی ووٹ کے حصول کے لئے تشہیر کے سوا کچھ نہیں۔ تمام چیزوں پر غور کیا جائے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت روایتی نقطہ نظر سے ہی ( مزید ٹیکس لگانے ) اس آمدنی میں اضافہ کرنے کے قابل ہے۔ یہ واضح طور پر مایوس کن حالات ہیں جو مزید اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں۔جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف 3.5 فیصد اگلے مالی سال کے دوران حکومت کی معاشی ترقی کی حقیقی توقعات کو پورا کر سکتا ہے جو کہ بہت کم یا کچھ بھی نہیں ہے۔ تقریبا ً3.0 فیصد آبادی کی شرح نمو والے ملک کے لیے 3.5 فیصد جی ڈی پی کی نمو بالکل بھی ترقی نہیں ہے جو کہ حکومت کو حاصل کرنے کی امید ہے۔ مگر بڑھتے ہوئی افراط زر اور کم نمو کے ساتھ 9.2 کے ریونیو کا ہدف کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ خاص طور پر یہ دیکھتے ہوئے کہ کس طرح حکام گذشتہ مالی سال کے لیے اپنے 7.4 ریوینو ہدف کو پورا کرنے میں ناکام رہے۔ خاص طور پر غیر حقیقی آمدنی کا ہدف جو کہ کل محصولات کے ایک تہائی پر مقرر کیا گیا ہے۔ اس بارے میں کوئی لفظ نہیں ہے کہ وہ کہاں سے آنے کی امید رکھتے ہیں حالانکہ سستے روسی اور ایرانی تیل پر پیٹرولیم لیوی میں اضافہ ممکنہ طور پر مشتبہ ہے۔بجٹ کی کچھ تجاویز بہت عجیب ہیں مثال کے طور پر بینک ٹرانزیکشنز پر 0.6 فیصد سرچارج کو لے لیں۔ پچھلی بار جب اس قسم کا لیوی متعارف کرایا گیا تھا تو اس نے بیکنگ سسٹم سے بڑے پیمانے پر کرنسی کا اخراج کیا جس سے پیسہ گرے اکانومی میں چلا گیا۔ اس کے بعد بونس پر ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔ ان خطوط پر پیشگی تجویز کو قانونی طور پر ناقابل قبول پایا گیا اور اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ شاید یہ محاورات ہماری طرح بیمار معیشت کو سنبھالنے کے موروثی ناممکنات سے پیدا ہوئے ہیں۔ آپ ایک ایسی معیشت کے بارے میں کیا کرسکتے ہیں جسے سود کی ادائیگیوں میں اپنے کل بجٹ کے نصف سے زیادہ خرچ کرنا پڑتا ہے؟ دوسری طرف یہ بالکل واضح ہے کہ معیشت اس سے نکلنے کے بجائے دلدل میں گر رہی ہے۔ پھر بھی ہم ایک بجٹ دیکھتے ہیں جس میں ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کا تصور کیا گیا ہے اسے جی ڈی پی کے 0.9 فیصد پر لایا گیا ہے جو مالی سال 16 میں جی ڈی پی کے 2.1 فیصد کے بلند ہدف سے کم ہے۔ دفاعی اخراجات اگرچہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں معمولی طور پر 15 فیصد زیادہ ہیں لیکن اگر ہم افراط زر کو مدنظر رکھیں تو یہ حقیقی معنوں میں کم ہے۔اس کے بعد آئی ایم ایف کو بجٹ نمبر فروخت کرنے کا سوال ہے خاص طور پر جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ حکومت آئی ایم ایف کے ختم ہونے والے پروگرام کو ایک مثبت نوٹ پر بند کرنے پر اعتماد کر رہی ہے اور اس کے بعد جلد ہی ایک نئے پروگرام میں داخل ہونے کی توقع کر رہی ہے میں واضح طور پر بجٹ کے مسودے میں کرنٹ ا ئوکانٹ خسارہ تک بڑھنے کا منصوبہ ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ حکومت نئے مالی سال کے کم از کم پہلے چند مہینوں کے لیے درآمدات پر پابندیوں کو کم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ ایک اچھا بیانیہ اختیار کیا جاسکے ۔md.daud78@gmail.com







