خواجہ سراء کے شناختی کارڈ بنوانے اور ان کےبطور ووٹر رجسٹریشن بنانے کے لئے کوشاں ہیں ، اس حوالہ سے نادرا ، محکمہ سوشل ویلفئیر اور سول سوسائٹی کا کردار لائق تحسین ہے۔ان خیالات کا اظہار جوائینٹ صوبائ الیکشن کمشنر خیبرپختونخوا جاوید رحمت خان نے آج پشاور میں خواجہ سراء کے شناختی کارڈ اور ووٹ رجسٹریشن کے حوالہ سے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اجلاس کا انعقاد د حوا لور نے کیا تھا، ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ الیکشن ذوالفقار احمد، ترجمان صوبائ الیکشن کمشنر خیبرپختونخوا سہیل احمد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سوشل انکلیوژن سید عون احمد نقوی، نادرا سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور فوکل پرسن شاہد خان ، سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ سے ساجد خٹک ، د حوا لور سے مس خورشید ، شوانہ شاہ، عائشہ، خواجہ سراء منزل فاونڈیشن کی آرزو، نمکین، کالجئ، سمیت دیگر خواجہ سرا نے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس کو نادرا سے شاہد خان نے بتایا کہ نادرا کے ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں خواجہ سرا، اور دیگر محروم طبقات کی سہولت کے لئے خصوصی ڈیسک بنایا ہے۔ اور خواجہ سراء کے مسائل کو بہتر طریقے سے حل کرنے کے لئے خیبرپختونخوا میں 300 اہلکاروں کو تربیت دی گئ ہے، انہوں نے بتایا کہ خواجہ سراء کے ڈیروں پر بھی رجسٹریشن کے لئے موبائیل رجسٹریشن وین بھجوایا جائیگا،
سوشل ویلفئیر سے ساجد خٹک نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں مجنوعی طور پر 527 خواجہ سراء رجسٹرڈ ہیں۔
جوائنٹ صوبائ الیکشن کمشنر جاوید رحمت خان نے کہا کہ خواجہ سراء کے رجسٹریشن کے مسلہ کو حل کرنے کے لئے ہم سب کو ملکر کام کرنا ہوگا، جاوید رحمت نے نادرا کی جانب سے خواجہ سراء کی سہولت کے لئے خصوصی ڈیسک کا قیام خوش آئیند ہے۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان انتخابات میں خواجہ سراء سمیت تمام محروم طبقات کی شمولیت کو بڑھانے کے لئے کاوشیں جاری رکھنے کے لئے پُر عزم ہے،
انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن انتخابی عمل میں معاشرے کے تمام طبقات کی شرکت یقینی بناے کے لئے کوشاں ہے۔
اس سے پہلے د حوالور کی خورشید بانو، شوانہ شاہ اور عائشہ نے خواجہ سراء کے رجسٹریشن کے حوالہ سے تفصیلی بریفنگ دی، اجلاس میں تجویز پیش کی گئ کہ خواجہ سراء کی سہولت کے لئے محکمہ سوشل ویلفئیر میں خصوصی کاونٹر قائم اور فوکل پرسن مقررکیا جائے۔، اس موقع پر خواجہ سراوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا، اور تجاویز پیش کیں، ڈائریکٹر الیکشن ذوالفقار احمد نے بتایا کہ اس کمیونٹی کے رجسٹریشن کے حوالہ سے خصوصی آگاہی مہم چلانیکی ضرورت ہے،







