پارکس کی جگہ پر بلڈنگ کی تعمیرات قبول نہیں، پشاور ہائیکورٹ

 

 رپورٹ : شعیب جمیل

چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس قیصررشید نے کہا ہے کہ ہمیں مزید کنکریٹ کے بلڈنگ نہیں چاہئے بلکہ اس شہر اور ان کے رہائشیوں کیلئے پارکس چاہئے تاکہ یہاں کے شہری بھی صاف ستھری ہوا میں سانس لے سکے ۔کسی صورت پبلک پارکس کو کمرشل علاقوں میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی پی ڈی اے حکام کو واضح طور پر یہ لکھ کردینا ہوگا کہ جو پارکس کی زمین ہے وہ پارک کیلئے استعمال ہوگی ایسا نہ ہو کہ کل اسی پارک کو اتوار بازار یا کمرشل ایریا میں تبدیل کریں۔ فاضل چیف جسٹس نے یہ ریمارکس فضل حنیف نامی درخواست گزار کی رٹ کی سماعت کے دوران دیئے اس دوران درخواست گزار کی جانب سے امین الرحمان یوسفزئی جبکہ پی ڈی اے کی جانب سے عامر جاوید ایڈوکیٹ عدالت کے روبرو پیش ہوئے ،امین الرحمان ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ریگی ماڈل ٹاون میں اتوار بازار کو پارک پر تعمیر کیا گیا تھا تاہم بعد میں عدالتی مداخلت پر اس کو بند کردیا گیا مگر اس کیلئے مستقل حل تلاش کرنا ضروری ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم پی ڈی اے حکام کو اس بات کا پابند بنائیں گے کہ یہ ساری امور مستقل طور پر ہو نہ کہ عارضی طور پر، اسی دوران پی ڈی اے کے وکیل عامر جاوید نے عدالت کو بتایا کہ ریگی میں 14 میں سے 7 پارک مکمل کئے گئے ہیں اور مزید کئے جا رہے ہیں اور جو اتوار بازار پارکس پر بنایا گیا تھا وہ عارضی طور پر تھا تاکہ لوگوں کو سہولت دی جا سکے بعد میں اس کو بند کردیا گیا حیات آباد کے اتوار بازار 1992 کے نقشے کے مطابق سوک سنٹر ہے اور اب اتوار بازار کیلئے رنگ روڈ پر زمین حاصل کرلی گئی ہے جس کا رقبہ188 کنال ہے جو زمین اتوار بازار کیلئے استعمال ہو گی ا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed