
تحریر: عباس مہد
کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابلیس نے اس زمین پر اپنا کام پوری شدت کے ساتھ مکمل کر لیا ہے اور اب وہ انسان کی روح میں داخل ہو کر ہماری بے حسی، ہمارے کھوکھلے قوانین اور ہماری مردہ لاشوں پر قہقہے لگا رہا ہے۔ جب میں ننھی ایزل (Eizal)کی معصوم، بے گناہ اور پاکیزہ تصویر کو دیکھتا ہوں وہ معصومیت سے بھری آنکھیں جو ابھی دنیا کے رنگوں، چالاکیوں اور سفاکیوں کو پہچاننے کا شعور بھی حاصل نہیں کر پائی تھیں، وہ مسکراہٹ جس میں جنت کی تتلیوں اور فرشتوں کا نور جھلکتا تھاتو میرا قلم کانپ اٹھتا ہے۔ روح تڑپنے لگتی ہے، الفاظ بکھر جاتے ہیں اور خود الفاظ کا وجود شرم سے پانی پانی ہو کر مر جاتا ہے۔تقریباً ڈیڑھ سال (15 ماہ)کی وہ ننھی سی عمر… جس عمر میں بچے کی تتلی جیسی نازک انگلیاں اپنے ماں باپ کی انگلی تھام کر پہلا قدم اٹھانا سیکھتی ہیں، جس عمر میں بچے کو یہ بھی نہیں پتہ ہوتا کہ اس کے جسم کی کس ہڈی میں کہاں درد ہے، اس عمر میں اس معصوم وجود پر حیوانیت، درندگی اور سفاکی کا ایسا دہلا دینے والا آتش فشاں توڑا گیا کہ خود کائنات کا ذرہ ذرہ چیخ اٹھا ہوگا۔وہ معصوم بچی بول نہیں سکتی تھی۔ اس کے پاس اپنی تکلیف کو بیان کرنے کے لیے کوئی زبان نہیں تھی۔ وہ یہ نہیں بتا سکتی تھی کہ اس کے جسم کا کون سا حصہ کس قدر لہولہان ہے، اس کی ہڈیاں کس طرح ٹوٹی ہیں اور درندے کی ہوس نے اس کی روح کو کس بے دردی سے چھن بھن کیا ہے۔ جب ایک ڈیڑھ سال کی معصوم بچی پر اس طرح کی حیوانیت ڈھائی جاتی ہے، تو اس کی خاموش چیخیں عرشِ الہی کو ہلا دیتی ہیں لیکن ہماری ان مردہ بستیوں کے کانوں تک وہ آواز کبھی نہیں پہنچتی۔یہ تحریر لکھتے ہوئے میرے ہاتھ لرز رہے ہیں، آنکھوں کے سامنے سیاہ اندھیرا چھا رہا ہے اور سینے میں گھٹن اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ سانس لینا بھی ایک گناہ محسوس ہو رہا ہے۔ میں خود سے اور آپ سے یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہوں کہ کیا ہم سچ مچ زندہ انسانوں کی بستی میں رہتے ہیں؟ یا پھر ہم ان گلتی سڑتی مردہ لاشوں کا وہ گھنانا ہجوم ہیں جن کا ضمیر، جن کا اخلاق، جن کا مذہب اور جن کی انسانیت ہمیشہ کے لیے دفن ہو چکی ہے؟ یہ سوال اب صرف کوئی ادبی یا فکری سوال نہیں رہا، یہ اس پورے معاشرے، اس کے حکمرانوں، اس کے قاضیوں اور اس کے اخلاقی ٹھیکیداروں کے منہ پر ایک ایسا طمانچہ ہے جس کا داغ حشر تک نہیں مٹ سکتا۔جب بھی ایسا کوئی ہولناک اور روح فرسا واقعہ پیش آتا ہے، ہم چند دنوں کے لیے سوشل میڈیا کی سکرینوں پر جھوٹے غصے کا اظہار کرتے ہیں، موم بتیاں جلا کر اپنی باطل انا کو تسلی دیتے ہیں، کچھ ٹرینڈنگ ہیش ٹیگ چلاتے ہیں اور پھر اپنی اپنی سہولت بھری زندگیوں میں یوں مصروف ہو جاتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ ہم اس بے حسی، اس تذلیل اور اس درندگی کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ ہر نیا ظلم، ہر نئی چیخ اور ہر نئی معصوم لاش پچھلے ظلم کی یاد کو ہمارے ذہن سے مٹا دیتی ہے۔آج میں پوچھتا ہوں کہ ہم کس قیامت کے منتظر ہیں؟ کیا قیامت صرف صور پھونکنے، پہاڑوں کے روئی کی طرح اڑنے اور آسمان کے پھٹ جانے کا نام ہے؟ ذرا اپنے گریبان میں جھانک کر اور اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر دیکھیے! جب ڈیڑھ سال کی معصوم اور پاکیزہ بچی اپنے ہی گھر کی چار دیواری یا اپنے ہی محلے میں درندوں سے محفوظ نہ رہے، جب حیوانیت اور ہوس کی آگ میں اندھے ہو چکے بھیڑیے معصومیت کی تمام حدوں کو یوں بے دردی سے پامال کر دیں، جب اس بچی کا پورا وجود چکنا چور ہو جائے اور ایک باپ کی دلخراش چیخیں اور ماں کا نوحہ ایوانِ عدل کی بے حس اور اندھی دیواروں سے ٹکرا کر بے بسی کے ساتھ واپس آ جائے تو سمجھئے کہ قیامت آ چکی ہے۔قیامت کسی اور دن کا نام نہیں ہے؛ شاید وہ حشر، وہ عذاب اور وہ قیامت خاموشی سے اس بستی پر گزر بھی چکی ہے اور اب ہم جس جگہ سانس لے رہے ہیں، یہ انسانوں کی دنیا نہیں بلکہ جہنم کا ایک بدبودار اور ہولناک گوشہ ہے۔ذرا اس بدقسمت ماں کا تصور کیجیے جس نے نو مہینوں تک اس معصوم وجود کو اپنے وجود میں پالتا رہا، جس نے اپنی راتوں کی نیندیں، اپنا چین اور اپنا سکون اس کی ایک مسکراہٹ پر قربان کر دیا۔ جب اس ماں نے اپنی ڈیڑھ سال کی معصوم بچی کے زخموں سے چور، لہولہان اور ٹوٹی ہوئی ہڈیوں والے بے جان وجود کو دیکھا ہوگا، تو اس کے دل پر کیا گزری ہوگی؟ وہ ماں کس زبان سے خدا سے شکوہ کرے؟ وہ کس منہ سے اس معاشرے سے انصاف مانگے جہاں کا انصاف خود درندوں کی ڈھال بن چکا ہے؟اور اس باپ کا سوچیے جس کے تمام خواب، جس کی پوری دنیا اور جس کی زندگی کا واحد سہارا اس کی آنکھوں کے سامنے درندگی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ اس باپ کے ہاتھوں میں جب اپنی معصوم بیٹی کا لہولہان لاشہ ہوگا، تو اس کی ریڑھ کی ہڈی کس طرح ٹوٹ گئی ہوگی! وہ باپ اب کس امید پر اس زمین پر قدم رکھے گا؟ وہ کس طرح اپنی باقی زندگی اس عذاب اور اس گھٹن کے ساتھ گزارے گا؟ یہ وہ سوالات ہیں جو انسان کے اندر کے انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں، جو روح کو اندر سے چھلنی کر دیتے ہیں اور جو انسان کو اپنے انسان ہونے پر شرمندہ کر دیتے ہیں۔دنیا بھر کی ریسرچ، عمرانیات اور انسانی حقوق کی رپورٹیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ جس معاشرے میں بچوں کے خلاف تشدد اور استحصال اس حد تک بڑھ جائے کہ معصوم دودھ پیتے بچے بھی محفوظ نہ رہیں، وہ معاشرہ زوال کی آخری حد پار کر چکا ہوتا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایسے ہزاروں کیسز درج ہی نہیں ہو پاتے اور جو درج ہوتے ہیں، وہ انصاف کی دیمک زدہ فائلوں میں دفن ہو جاتے ہیں۔ہمارے قانون کی کتابیں ایوانوں کی الماریوں میں دھول چاٹ رہی ہیں، ہمارے انصاف کے ایوانوں میں تاریخ پر تاریخ اور مقدمات کی سودے بازی چمک رہی ہے، اور ہمارے اقتدار کے پجاریوں کے پاس اس ننھی ایزل کی چیخوں اور اس کے والدین کے نوحے کے لیے ایک سیکنڈ کا وقت بھی نہیں۔ وہ صرف اپنی کرسیوں کو بچانے، اپنے سیاسی مفادات کی روٹیاں سیکنے اور اپنی طاقت کے تماشے میں مصروف ہیں۔ انہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ اس ملک کا ہر باپ، ہر ماں اپنی معصوم بیٹیوں کے محفوظ مستقبل اور ان کی عزت کے لیے خوف اور دہشت کے سائے میں جینے پر مجبور ہے۔ننھی ایزل تو اس بے حس، ظالم اور درندہ صفت دنیا سے چلی گئی؛ وہ اپنے رب کی آغوش میں، جنت کے ان محلوں میں چلی گئی جہاں نہ کوئی ہوس ہے، نہ کوئی بھیڑیا ہے، نہ کوئی بے حس پولیس ہے اور نہ ہی کوئی ظالم و ناکارہ نظامِ عدل۔ لیکن وہ معصوم جاتے جاتے ہمارے چہروں سے شریف، مہذب اور اخلاقی ہونے کا تمام تر جھوٹا نقاب نوچ کر پھینک گئی ہے۔ اس نے اپنے خون اور اپنی ٹوٹی ہڈیوں سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہم صرف ایک بے حس اور مردہ ہجوم ہیں جس کی کوئی اخلاقی، دینی یا انسانی قدر باقی نہیں رہی۔ ہم صرف چلتی پھرتی لاشیں ہیں جن کا دل پتھر سے بھی زیادہ سخت اور سیاہ ہو چکا ہے۔میں ایوانِ بالا کے کرسی نشینوں، وقت کے قاضیوں اور اس معاشرے کے تمام طاقتور افراد سے صرف ایک ہی تلخ سوال پوچھنا چاہتا ہوں: تم کب تک اس ناانصافی، اس درندگی اور اس بے حسی کے غار میں سوئے رہو گے؟ کیا تمہاری غیرت اور تمہارا ضمیر اس وقت جاگے گا جب خدا نہ کرے یہ آگ تمہارے اپنے گھروں تک پہنچے گی؟اگر آج بھی ہم نے ان درندوں کو سرِعام چوراہوں پر پھانسی دے کر عبرت کا نشان نہ بنایا، اگر آج بھی ہمارا انصاف گونگا، بہرا اور طاقتور کا غلام بنا رہا، تو یاد رکھو کہ کائنات کے مالک کی لاٹھی بے آواز ہے اور تاریخ کی سزاں سے تم میں سے کوئی نہیں بچ سکے گا۔ جب تک اس ملک کا قانون مظلوم کی مضبوط ڈھال اور ظالم کے لیے بے رحم تلوار نہیں بنے گا، تب تک اس زمین سے بے حسی، تذلیل اور درندگی کا یہ جہنم کبھی ختم نہیں ہوگا۔ اے معصوم اور پاکیزہ ایزل! ہمیں اور اس پورے معاشرے کو کبھی معاف نہ کرنا… کیونکہ ہم نے تجھے ایک ایسا گندا اور سفاک معاشرہ دیا جہاں انسانیت زار و قطار روتی رہی اور حیوانیت و درندگی اپنی جیت کا جشن منااتی رہی!







