تحریک انصاف کالعدم تحریک طالبان کی حامی نہیں، بیرسٹر گوہر

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے 5 اگست کو پشاور میں بڑے جلسہ اور آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اسے نمٹانے کا طریقہ کار الگ ہونا چاہیے،جلسے میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا۔بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہی موجودہ سیاسی حالات میں بہتری کی کنجی ہے، اور اگر ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تو حالات میں واضح تبدیلی آئے گی۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ آزاد، شفاف اور منصفانہ انتخابات ہی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں، دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنی سیاست کے باعث ملک کو موجودہ صورتحال تک پہنچایا۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کسی صورت کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی حمایت نہیں کرتی، کالعدم ٹی ٹی پی سے وابستہ ہر شخص کو دہشت گرد سمجھا جانا چاہیے اور دہشت گردی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ناگزیر ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اسے نمٹانے کا طریقہ کار الگ ہونا چاہیے۔انہوں نے اعلان کیا کہ پرامن احتجاج کو ڈیل کرنے کا طریقہ الگ ہے، 5 اگست کو پشاور میں ایک بڑا جلسہ منعقد ہوگا، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔چیئرمین پی ٹی آئی نے بتایا کہ ریاست کے تینوں ستون ایک ہوچکے ، محموداچکزئی سے ملاقات کریں گے۔آزاد کشمیر انتخابات سے متعلق انہوں نے دعوی کیا کہ پی ٹی آئی کے بائیکاٹ کے باعث ٹرن آئو ٹ صرف 5 سے 7 فیصد رہا، جو نہ ہونے کے برابر ہے، پارٹی نے عوامی مطالبات کی حمایت کی، تاہم کسی بھی ریاست مخالف مطالبے کی تائید نہیں کی۔انہوں نے مزید کہا کہ اتنے مقبول رہنما کو طویل عرصے تک جیل میں رکھنا مناسب نہیں، جبکہ کشمیر کو پاکستان کی "شہ رگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ رشتہ ہمیشہ مضبوط رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed