پشاور ہائیکورٹ نے کوہاٹ پشاور روڈ پر سرکاری ملازمین سے ٹول ٹیکس کی وصولی کے خلاف دائر درخواست پر نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (این ایچ اے)کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے اس حوالے سے تحریری حکم نامہ بھی جاری کر دیا۔عدالت کے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق درخواست گزار کے وکیل سعید خان ایڈووکیٹ نے مقف اختیار کیا کہ درخواست گزار روزانہ سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے کوہاٹ سے پشاور سفر کرتے ہیں اور انہیں دونوں اطراف متعدد بار ٹول ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے، جس سے ان پر اضافی مالی بوجھ عائد ہو رہا ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اعلی سرکاری حکام اور مراعات یافتہ طبقے کو ٹول ٹیکس سے استثنی حاصل ہے اور وہ سرکاری سطح پر اس سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں، جبکہ نچلے اور درمیانے درجے کے سرکاری ملازمین، جو محدود تنخواہوں پر گزارا کرتے ہیں، روزانہ ٹول ٹیکس کی ادائیگی پر مجبور ہیں۔درخواست میں مقف اختیار کیا گیا کہ مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور محدود ماہانہ تنخواہوں کے باعث روزانہ کی بنیاد پر ٹول ٹیکس کی ادائیگی ملازمین کے لیے ایک سنگین مالی بوجھ بن چکی ہے۔ وکیل کے مطابق یہ امتیازی سلوک آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 4، 14، 15 اور بالخصوص آرٹیکل 25 میں فراہم کردہ مساوات کے اصول کے منافی ہے۔درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ سرکاری فرائض کی انجام دہی کے لیے روزانہ سفر کرنے والے کم تنخواہ والے سرکاری ملازمین کو بار بار ٹول ٹیکس کی ادائیگی سے مستثنی قرار دیا جائے۔







