خیبر پختونخوا اورپنجاب میں مون سون بارشوں نے تباہی مچا دی، دریا بپھر گئے ، درجنوں مکانات منہدم، نشیبی علاقے زیر آب آنے سے پانی گھروں اور کھڑی فصلوں کو ڈبو گیا،مختلف حادثات میں 26افراد جاںبحق اور 50سے زائد زخمی ہوگئے ،خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور فلیش فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیاہے۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں، چھتیں اور دیواریں گرنے اور سیلابی ریلوں کے باعث بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(پی ڈی ایم اے)خیبرپختونخوا کے مطابق خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں مختلف حادثات کے نتیجے میں 18افراد جاں بحق اور 19 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔پی ڈی ایم اے نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ جاں بحق ہونے والے افراد میں 7مرد، 8بچے اور 3خواتین شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 11 مرد، 4 خواتین اور 4 بچے شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، بارشوں اور فلش فلڈ سے اب تک 28 مکانات متاثر ہوئے ہیں جن میں سے 6گھر مکمل طور پر منہدم جبکہ 22 کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر و اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، تورغر، کرم اور شمالی وزیرستان میں پیش آئے ہیں۔جنوبی وزیرستان کے علاقہ سراروغہ میں بارش سے کمرے کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے 4 افراد جاں بحق جن میں میاں بیوی اور 2 بچے شامل ہیںتفصیلات کے مطابق حالیہ شدید بارشوں سے جنوبی وزیرستان اپر کی تحصیل سراروغہ کے علاقے احمد وام بنگے والا میں گزشتہ شب پیش آنے والے المناک حادثے میں مکان کے ایک کمرے کی چھت اچانک گرنے سے ایک ہی خاندان کے چار افراد جاں بحق ہوگئے۔مقامی ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں واجد اللہ، ان کی اہلیہ، ایک بیٹا اور ایک بیٹی شامل ہیں۔ حادثہ رات کے آخری پہر اس وقت پیش آیا جب خاندان کے تمام افراد کمرے میں محوِ خواب تھے۔ادھر پنجاب ریسکیو 1122 کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے بھر میں بارش اور آندھی کے نتیجے میں دیواریں اور چھتیں گرنے سے 8افراد جاںبحق جبکہ37افراد زخمی ہوگئے۔گوجرانوالہ میں بارش کے باعث چھتیں اور دیواریں گرنے کے آٹھ مختلف واقعات میں 3 افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوئے، جبکہ بارش اور کرنٹ لگنے کے تین مختلف حادثات میں ایک شخص کی موت ہوئی اور دو زخمی ہوئے۔ کامونکی میں انڈر پاس میں جمع بارش کے پانی میں ڈوب کر ایک بچہ جان کی بازی ہار گیا۔پاکپتن میں کچے مکان کی چھت گرنے سے 2 افراد جان سے گئے اور 2 زخمی ہوئے، جبکہ ساہیوال کے علاقے کوٹ خادم علی شاہ میں چھت گرنے سے ایک خاتون کی موت ہوگئی۔ ہڑپہ میں دکان کی چھت گرنے سے 3 افراد زخمی ہوئے۔ لاہور کے علاقے بند روڈ گلشن راوی کے قریب چھت گرنے سے 4 افراد زخمی ہوئے، منڈی بہائو الدین میں مختلف دیہاتوں میں چھتیں اور دیواریں گرنے سے 8 افراد زخمی ہوئے، بہاولنگر میں شیڈ گرنے سے ایک شخص زخمی ہوا جبکہ سیالکوٹ میں چھت گرنے سے 3افراد زخمی ہوئے۔ مری اور کہوٹہ میں جزوی لینڈ سلائیڈنگ اور درخت گرنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔چنیوٹ میں دریائے چناب کی موجیں مسجد کو بہا لے گئیں۔ نشیبی علاقوں کے مکینوں کو محفوظ مقامات پرمنتقل کرنے کیلئے کشتیاں پہنچا دی گئیں۔جلال پور بھٹیاں میں زمینی کٹائو کی وجہ سے کسانوں کی ایکڑوں پر پھیلی فصل زیر آب آگئی۔ ضلع وزیرآباد اور گردونواح میں گزشتہ 36 گھنٹوں سے جاری وقفے وقفے کی بارش نے عام زندگی کو شدید متاثر کر دیا ۔ہیڈ مرالہ، خانکی اور قادر آباد بیراج کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے







