احتساب عدالت پشاور نے سرکاری ادویات سکینڈل میں گرفتار ڈاکٹر محمد اسلام کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی۔احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کی ضمانت خارج کر دی۔نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کارڈیک ٹیکنیشن ہے اور ایک نجی فارماسیوٹیکل کمپنی کے ذریعے مبینہ طور پر ادویات سکینڈل میں ملوث رہا۔نیب کے مطابق ملزم نے دیگر ملزمان کی مبینہ ملی بھگت سے نجی کمپنی کے حق میں 220.7 ملین روپے مالیت کے ادویات سپلائی آرڈرز جاری کیے۔نیب نے مقف اختیار کیا کہ مذکورہ رقم میں سے 157 ملین روپے ملزم کے ذاتی بینک اکانٹ میں منتقل کیے گئے، پراسیکیوشن کے مطابق یہ ٹرانزیکشنز تحقیقات کا اہم حصہ ہیں۔نیب پراسیکیوٹر کے مطابق ڈی ایچ او لوئر دیر کے دفتر سے ادویات کی خریداری کی مد میں 40 ملین روپے کی ٹرانزیکشن بھی کی گئی۔پراسیکیوشن کا دعوی ہے کہ یہ رقم ڈی ایچ کیو ہسپتال تیمرگرہ میں ادویات کی فراہمی کے لیے منتقل کی گئی، تاہم ہسپتال کو ادویات فراہم نہیں کی گئیں اور رقم نکال لی گئی۔ملزم کے وکیل نے عدالت میں مقف اختیار کیا کہ نیب نے ڈاکٹر محمد اسلام کو صرف الزامات کی بنیاد پر گرفتار کیا ہے۔وکیل کے مطابق نیب کے پاس ملزم کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں، اس لیے تحقیقات جاری رکھتے ہوئے ضمانت دی جائے۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد احتساب عدالت نے ڈاکٹر محمد اسلام کی درخواستِ ضمانت مسترد کرتے ہوئے ملزم کو ریلیف دینے سے انکار کر دیا۔







