پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بنچ نے صوبائی کابینہ کے فیصلے کے باوجود ایک پبلشرز کو کتابوں کی چھپائی کا کنٹریکٹ نہ دینے اور دوبارہ اس ضمن میں اشتہار جاری کرنے کے خلاف حکم امتناعی جاری کردیا ۔گزشتہ روز دو رکنی بنچ نے عامرجاوید ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائر رٹ کی سماعت کی۔دوران سماعت درخواست گزار کنٹاب پبلشرز کے وکیل نے موقف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ کمپنی نے خیبر پختون خوا ٹیکسٹ بورڈ میں مختلف کتابوں کی چھپائی کے لئے شارٹ لسٹ کیا اور باقاعدہ طور پر اس ضمن میں وفاقی حکومت کی آمادگی کے بعد صوبائی کابینہ نے بھی اس کی منظوری دے دی جس کے لئے انہیں شارٹ لسٹ کیا گیا ۔انہوں نے عدالت کوبتایا کہ اس تمام تر امور کی منظوری صوبائی کابینہ دے چکی ہے تاہم ٹیکسٹ بک بورڈ نے صوبائی کابینہ کے فیصلے کو نظرانداز کرتے ہوئے مختلف کتابوں کی فراہمی کے لئے دوبارہ اشتہار جاری کیا جبکہ ایک دوسرے فرم کو بغیر متعلقہ قوانین کے کنٹریکٹ دے دیا گیا ۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس کے موکل نے تمام قانونی تقاضے پورے کئے ہیں اور سب کتابوں کی فراہمی کیلئے وہ شارٹ لسٹ ہو چکا ہے مگر اس کے باوجود اسے نظرانداز کرکے اشتہار جاری کرنے اور ایک دوسرے ادارے کو مجوزہ قوانین کے کنٹریکٹ دینا غیرقانونی اور غیرقانونی ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ اس اشتہار پر عمل درامد کو روکا جائے اور کنٹریکٹ اسکے موکل کمپنی کو دیا جائے ۔عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے مختلف کتابوں کی دوبارہ چھپائی سے متعلق ٹینڈر پر عمل درامد روک دیا اور حکومت کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا۔







