پاکستان ہندکووان تحریک کے صوبائی صدر اکبر سیٹھی نے گنج گیٹ کے باہر واقع تاریخی فصیلِ شہر کے ایک حصے کی مبینہ مسماری پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ پشاور کے تاریخی ورثے پر حملے کے مترادف ہے اور اس کی ہر سطح پر شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق گنج گیٹ کے بیرونِ علاقے میں واقع فصیلِ شہر کے ایک حصے کو مسمار کیا گیا ہے، جبکہ یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ باقی ماندہ دیوار کو بھی راتوں رات گرا کر وہاں کثیر المنزلہ پلازہ تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ نہ صرف قانون کی خلاف ورزی بلکہ پشاور کی تاریخی شناخت کو مٹانے کی کوشش ہے۔اکبر سیٹھی نے کہا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود تاریخی فصیل کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ، شفاف اور فوری تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے ایک سابق بلدیاتی نمائندے پر سیاسی و مالی اثرورسوخ استعمال کرکے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ اگر ان الزامات میں صداقت پائی جاتی ہے تو بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور کسی بھی بااثر شخصیت کو قانون سے بالاتر نہ سمجھا جائے۔اکبر سیٹھی نے کہا کہ پشاور کی تاریخی فصیل، گنج گیٹ اور دیگر آثارِ قدیمہ ہماری تہذیبی شناخت، ثقافتی ورثہ اور مشترکہ قومی اثاثہ ہیں۔







