خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے اراکین صوبائی اسمبلی مراعات ایکٹ سے متعلق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چند روز سے اس اراکین صوبائی اسمبلی مراعات ایکٹ پر بحث جاری ہے ۔ صحافی برادری، عوام اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے بھی بعض شقوں پر تحفظات سامنے آئے ہیں انہی تحفظات کے پیش نظر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کابینہ اراکین کے ساتھ اجلاس منعقد کیا، جس میں اسپیکر صوبائی اسمبلی سے مشاورت کے بعد ایکٹ کی قابل اعتراض شقیں واپس لینے کی ہدایت کی گئی۔ صوبائی وزیر شفیع جان نے مزید بتایا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایات کی روشنی میں اسپیکر صوبائی اسمبلی کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا، جس میں تمام پارلیمانی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز اور قائد حزب اختلاف نے شرکت کی۔ اجلاس میں تمام شرکاء کی آراء غور سے سنی گئیں، جس کے بعد اسپیکر نے ایکٹ کی قابل اعتراض شقیں دوبارہ قائمہ کمیٹی برائے استحقاق کو بھجوانے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ بل قائمہ کمیٹی برائے استحقاق سے آیا تھا، اس لیے کمیٹی ایک ہفتے کے اندر ان شقوں کا دوبارہ جائزہ لے کر انہیں 1988 کے ایکٹ کے مطابق درست اور بحال کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحافی برادری اور عوام بھی اپنی تجاویز پیش کر سکتے ہیں۔صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ 1988 کے ایکٹ اور نئے ایکٹ کی بیشتر شقیں یکساں ہیں، صرف بلیو پاسپورٹ سے متعلق شق مختلف تھی۔ تاہم کابینہ سے منظور شدہ مسودے میں نہ بچوں، نہ تاحیات سہولت اور نہ ہی شریکِ حیات کو بلیو پاسپورٹ کی سہولت دینے کی کوئی شق شامل تھی۔ گورنر خیبر پختونخوا نے 6 مئی کو بل پر دستخط کیے جبکہ 7 مئی کو اس کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہوا، لیکن اس وقت کسی جانب سے اس معاملے پر اعتراض سامنے نہیں آیا۔شفیع جان نے کہا کہ اسحاق ڈار کے نواسے کے کیس سے توجہ ہٹانے کے لیے اس معاملے کو اچھالا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ کیس کو دبانے نہیں دیا جائے گا اور تحقیقات میں سستی پر پاکستان تحریک انصاف اور صوبائی حکومت دونوں کو تحفظات ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسی نوعیت کی ترامیم سندھ اور پنجاب میں بھی کی جا چکی ہیں، مگر وہاں اس پر بحث نہیں ہوئی۔ شفیع جان نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں صرف 992 بلیو پاسپورٹس جاری کیے گئے ہیں، جبکہ ملک بھر میں ان کی تعداد تقریباً 56 ہزار ہے، اس لیے اس حوالے سے مکمل حقائق اور اعداد و شمار بھی سامنے لائے جانے چاہئیں۔







