پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے خیبر پختونخوا میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی، غیر قانونی لاگنگ اور جنگلاتی آگ کیخلاف دائر آئینی درخواست کی سماعت کی۔درخواست گزار کے وکیل حمزہ جمشید ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے موقف اختیار کیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران جنگلات میں آگ لگنے کے 210 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ ٹمبر مافیا اور غیر قانونی کٹائی کے باعث صوبے کے جنگلات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے عدالت سے مثر حکومتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔معزز عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد حکومتِ خیبر پختونخوا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جنگلات کے تحفظ، غیر قانونی کٹائی کی روک تھام اور جنگلاتی آگ کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات سے متعلق جامع رپورٹ و جواب طلب کر لیا۔






