وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے نئے مالی سال کیلئے حکومتی پالیسی ترجیحات واضح کرتے ہوئے کابینہ اراکین اور انتظامی سیکرٹریز کو عوامی خدمت، شفافیت، میرٹ، ترقیاتی منصوبوں پر تیز رفتار عملدرآمد اور مو ثر سروس ڈیلیوری سے متعلق اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ وزیراعلی نے واضح کیا ہے کہ نئے مالی سال میں صوبائی حکومت کی تمام پالیسیوں، فیصلوں اور اقدامات کا محور عوامی مفاد اور شہریوں کا اطمینان ہوگا جبکہ کرپشن، نااہلی اور ناقص کارکردگی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔صوبائی کابینہ کے اراکین اور تمام محکموں کے انتظامی سیکرٹریز کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی نے کہا کہ صوبائی بجٹ کی منظوری اور نئے مالی سال کے آغاز کے بعد حکومت کو عمران خان کے ویژن کے مطابق اپنی ترجیحات اور اہداف کے حصول کیلئے پوری توجہ اور تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ انہوں نے وزرائ، مشیران، معاونین خصوصی اور انتظامی سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ وہ باہمی رابطہ اور کوآرڈینیشن مضبوط بنائیں اور تمام فیصلے باہمی مشاورت، میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر کریں۔وزیراعلی نے کرپشن کیخلاف سخت مو قف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی سطح پر کرپشن اور بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی اور محکموں میں کرپشن کے تمام چھوٹے بڑے راستے بند کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سروس ڈیلیوری، مالی معاملات یا کسی بھی دوسری شکل میں بدعنوانی پر کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ وزیراعلی نے وزرا، مشیران اور انتظامی سیکرٹریز کو اختیار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ کرپٹ، نااہل، ناقص کارکردگی کے حامل اور عوامی توقعات پر پورا نہ اترنے والے افسران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، چاہے وہ کسی کے بھی منظورِ نظر ہوں۔وزیراعلی نے کہا کہ محکموں اور حکومتی عہدیداروں کی کارکردگی کا اصل معیار پریزنٹیشنز، واٹس ایپ، سوشل میڈیا یا دفتری رپورٹس نہیں بلکہ عوام کا اطمینان ہوگا۔ عوام حکومتی خدمات اور اقدامات سے مطمئن ہوں گے تو حکومت بھی محکموں کی کارکردگی سے مطمئن ہوگی، لیکن اگر عوام مطمئن نہ ہوں تو اچھی سے اچھی پریزنٹیشن اور رپورٹ کا کوئی فائدہ نہیں







