عدنان بشیر خان
ایک سنسنی خیز پیش رفت میں ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی عالیہ حمید کے مقدمے کی پیروی کرنے والے سپریم کورٹ آف پاکستان کے وکیل بیرسٹر سلیم خان کے خلاف اغواء برائے تاوان کے مقدمے میں نامزد کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے بعد قانونی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ لڑکی ایبٹ آباد سے پشاور آئی تھی اور بعد ازاں عدالت میں پیش ہونے کے بعد عدالتی احکامات کے تحت دارالامان منتقل کر دی گئی تھی بتایا جاتا ہے کہ اس تمام عمل کے دوران لڑکی عدالت کے حکم کے مطابق سرکاری تحویل میں موجود تھی۔ تاہم اس کے باوجود ایبٹ آباد پولیس نے مبینہ طور پر بیرسٹر سمیت دیگر افراد کے خلاف اغواء برائے تاوان کا مقدمہ درج کر لیا جس پر قانونی ماہرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ جب لڑکی عدالتی حکم کے تحت دارالامان میں موجود تھی تو پھر ایسے مقدمے کی قانونی حیثیت کیا بنتی ہے۔قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر عدالتی ریکارڈ سے ثابت ہو جائے کہ لڑکی عدالت کے حکم پر دارالامان میں تھی تو اس صورت میں مقدمے کے اندراج اور تفتیش کے طریقہ کار پر سنجیدہ قانونی سوالات جنم لے سکتے ہیں۔







