حکومت خیبرپختونخوا نے صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت صوبے بھر میں پیشہ ور گداگروں کے خلاف فیصلہ کن آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پیشہ ور گداگروں کی پروفائلنگ شروع کر دی ہے ، اس کے ساتھ ہی بچوں سے زبردستی بھیک منگوانے والے افراد اور منظم گروہوں کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی عمل میں لانے کا اعلان کیا گیا ہے۔وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سماجی بہبود، زکوات و عشر،سپیشل ایجوکیشن اینڈ ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ پیشہ ور گداگری ایک سنگین سماجی مسئلہ بن چکی ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف عوام کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ حقیقی مستحق افراد بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے موثر حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مختلف مقامات، چوراہوں، بازاروں، مساجد، تجارتی مراکز اور عوامی مقامات پر پیشہ ور گداگروں کے خلاف کارروائیاں کی جائیں گی، جبکہ ایسے منظم نیٹ ورکس کی بھی نشاندہی کی جائے گی جو بھیک مانگنے کو باقاعدہ کاروبار کے طور پر چلا رہے ہیں۔مشیرِ سماجی بہبود نے کہا کہ بچوں سے زبردستی بھیک منگوانا نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ قابلِ سزا جرم بھی ہے۔ ایسے عناصر کے خلاف متعلقہ اداروں کے تعاون سے بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی اور قانون کے مطابق سخت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ مشیر برائے سماجی بہبود، زکو و عشر اور ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان کا کہنا ہے کہ حکومت بچوں کے تحفظ اور ان کے بنیادی حقوق کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور کسی کو بھی ان کے استحصال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ سماجی بہبود، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر اس مہم میں حصہ لیں گے تاکہ پیشہ ور گداگری کے خاتمے کے ساتھ ساتھ مستحق اور بے سہارا افراد کی مناسب بحالی اور معاونت بھی یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ پیشہ ور گداگروں کی حوصلہ افزائی سے گریز کریں اور اگر کہیں بچوں سے زبردستی بھیک منگوائی جا رہی ہو یا منظم گداگری کے گروہوں کی سرگرمیوں کا علم ہو تو متعلقہ اداروں کو فوری اطلاع دیں، تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔انکا مزید کہنا تھا کہ اس مہم کا مقصد صرف پیشہ ور گداگری کا خاتمہ ہی نہیں بلکہ بچوں کے استحصال کی روک تھام، عوامی مقامات پر نظم و ضبط کی بہتری اور حقیقی مستحق افراد تک حکومتی فلاحی سہولیات کی موثر رسائی کو یقینی







