بھارت نے آپریشن سندور میں ہلاک 6 اہلکاروں کے نام ظاہر کر دئیے

بھارت نے گزشتہ سال پاکستان کے خلاف جارحیت کے دوران مارے گئے 6 بھارتی فوجیوں کی شناخت ظاہر کردی۔بی بی سی رپورٹ کے مطابق بھارت اور پاکستان میں ہونیوالی فضائی جھڑپوں کے تقریباً ایک سال بعد بھارت نے پہلی بار اپنی مسلح افواج کے ان چھ اہلکاروں کے نام ظاہر کیے ہیں جن کی ہلاکت اس تنازع کے دوران ہوئی تھی۔ گزشتہ روز پہلی بار بھارتی حکومت نے اس فوجی تنازعہ کے دوران ہلاک ہونے والے اپنے فوجی اہلکاروں کے نام ظاہر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ آپریشن سندور میں ہلاک ہوئے۔ اس حوالے سے چھ ناموں کی فہرست نیشنل وار میموریئل کی ویب سائٹ پر رول آف آنر میں شائع کی گئی ہے۔ہلاک ہونے والے فوجی اہلکاروں میں ہیڈکوارٹر 10 انفنٹری بریگیڈ کے صوبیدار میجر پاون کمار، 4 جموں اینڈ کشمیر لائٹ انفنٹری کے رائفل مین سنیل کمار (جنھیں ویر چکرا سے نوازا گیا)، 5 فیلڈ ریجیمنٹ کے لانس نائیک دنیش کمار، 851 لائٹ ریجیمنٹ کے ایوی ایشن ٹیکنیشن موڈ مرلی نائیک اور 237 فیلڈ ورکشاپ کمپنی کے حولدار سنیل کمار سنگھ شامل ہیں۔جبکہ انڈین فضائیہ کی 38 ونگ کے سارجنٹ سریندر کمار کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے جنھیں وایو میڈل سے نوازا گیا تھا۔انڈین میڈیا کے مطابق ان چھ اہلکاروں کے نام نئی دہلی میں نیشنل وار میموریئل کے تیاگ چکرا پر درج کیے جائیں گے۔ان اہلکاروں کے نام 2025 کے دوران مختلف فوجی کارروائیوں میں عظیم قربانی دینے والے مسلح افواج کے اہلکاروں کی سالانہ فہرست کے ساتھ جاری کئے گئے ہیں۔انڈیا کی آزادی کے بعد تمام ایسے سپاہیوں کے نام، رینک اور یونٹ تیاگ چکرا (گرینائٹ کی 16 دیواروں) پر درج کیے جاتے ہیں جنھوں نے قوم کی خدمت میں اپنی جان قربان کی۔اس پیشرفت پر بہت سے انڈین صارفین نے بھی اپنی رائے ظاہر کی ہے۔ بی بی سی کے مطابق صحافی انوشا روی سود نے لکھا کہ مودی حکومت کو آپریشن سندور کے دوران اپنی جان قربان کرنے والے فوجیوں کے نام سرکاری طور پر جاری کرنے میں 400 دن لگے ہیں۔تاہم صحافی سنیشن الیکش فلپ کا کہنا تھا کہ 11 مئی کی پریس کانفرنس میں انڈین ڈی جی ایم او نے تسلیم کیا تھا کہ آپریشن سندور میں پانچ فوجیوں کی جانیں گئی ہیں جبکہ انڈین فضائیہ کے سربراہ فضائیہ کے ہلاک ہونے والے اہلکار کے گھر بھی گئے تھے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ان جوانوں کو ویر چکرا سمیت بہادری کے مختلف اعزازات سے بھی نوازا جا چکا ہے۔انڈیا میں ویر چکرا میدان جنگ میں بہادری کے اعتراف میں دیا جانے والا تیسرا سب سے بڑا سرکاری اعزاز ہے۔ رواں ماہ کے آغاز پر انڈین فوج نے رائفل مین سنیل کمار کو بعد از مرگ ویر چکرا سے نوازا تھا اور انڈین حکومت کی طرف سے جاری کردہ فہرست میں سنیل کمار کا ‘ڈیٹ آف ایکٹ’ 10 مئی 2025 لکھا گیا تھا۔ایک دوسرے صارف نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا پارلیمنٹ میں وہ بیان شیئر کیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اس آپریشن میں انڈین مسلح افواج کے کسی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔ کانگریس سے منسلک ایک اور اکائو نٹ ڈاکٹر پوجا ترپاٹھی نے لکھا کہ لیکن راج ناتھ سنگھ جی نے تو کہا تھا کہ آپریشن سندور میں ہمارے کسی بھی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا تھا۔انڈین اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما پاون کھیرا نے ایکس پر لکھا کہ مرنے والے جوانوں کے نام قومی شعور میں نقش ہو جانے چاہیئے تھے ۔ لیکن اس کے بجائے پورے ایک سال تک بی جے پی حکومت نے ان کی شہادت کو قوم سے پوشیدہ رکھا۔وہی حکومت جو خود کو قومی پرچم میں لپیٹتی ہے اور قوم پرستی کی باتیں کرتی رہتی ہے۔ اس نے ان ہیروز کو اس طرح تسلیم نہیں کیا جس کے وہ مستحق تھے۔ کتنی شرم کی بات ہے۔اگرچہ اس ٹویٹ کو کانگریس کے ترجمان جے رام رمیش نے بھی ری پوسٹ کیا تاہم اس پر بی جے پی کے حامی اکائو نٹ نے کڑی تنقید کی ہے۔ جیسے ہتیش ستاوت نے لکھا کہ آپ نے ووٹوں اور ٹی آر پی کے لیے ہمارے شہدا کے خون کو بے شرمی سے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔کانگریس سے منسلک ایک اور اکانٹ وکرم سوامی نے رائے دی کہ ہمیں پورے ایک سال تک یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ان بہادر جوانوں نے ہماری حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کر دی تھیں۔وہ حکومت جو دوسروں سے حب الوطنی کے ثبوت مانگتی ہے اور غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹتی ہے، دراصل وہی حکومت ہے جس نے ان قومی ہیروز کو اس اعتراف اور اعزاز سے محروم رکھا۔ واضح رہے اپریل 2025 کے دوران مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں حملے کے قریباً ایک ماہ انڈیا نے پاکستان میں شدت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا تھا اور اس کارروائی کو سرکاری سطح پر آپریشن سندور کا نام دیا گیا تھا۔پاکستان کی جانب سے بھی دفاعی اور جوابی کارروائی کی گئی تھی جسے سرکاری سطح پر آپریشن بنیان مرصوص کا نام دیا گیا۔دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کے دعوے کئے گئے جبکہ پاکستان کا دعوی ہے کہ اس کارروائی کے دوران انڈیا کے جنگی طیارے بھی تباہ ہوئے تھے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے 13 مئی کو بتایا تھا کہ ان کارروائیوں میں پاکستانی مسلح افواج کے 11 اہلکار شہید ہوئے جن میں چھ کا تعلق بری فوج جبکہ پانچ کا پاکستانی فضائیہ سے تھا۔تاہم پاکستان کی جانب سے شہدا کی شناخت ظاہر کی گئی تھی اور انھیں اگست 2025 میں فوجی اعزازات سے بھی نوازا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed