خیبرپختونخوا اسمبلی میںمطالباتِ زر پر بحث کے دوران اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی کٹوتی کی تحاریک حکومت کی درخواست پر واپس لے لی گئیں، جس کے بعد سپیکر بابر سلیم سواتی نے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے تمام محکموں کے مطالباتِ زر کی فردا فردا منظوری دے دی۔اس موقع پر قائد حزبِ اختلاف ڈاکٹر عباد اللہ نے کارروائی پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن سے مشاورت نہیں کی گئی اور خصوصی اختیارات استعمال کر کے بجٹ کو بلڈوز کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ ایک اہم دستاویز ہے جس پر تمام اراکین کو تفصیلی بحث کا حق حاصل ہے جبکہ کٹوتی کی تحاریک کو نظر انداز کرنا منتخب نمائندوں کے حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کے حقوق کا تحفظ سپیکر کی ذمہ داری ہے اور جو طریقہ اختیار کیا گیا وہ مناسب نہیں تھا۔جواب میں سپیکر بابر سلیم سواتی نے کہا کہ خصوصی اختیارات کا استعمال باہمی مشاورت کے بعد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی رکن کو مزید بحث کرنی ہے تو اسے ضمنی بجٹ کے موقع پر اظہارِ خیال کا پورا موقع فراہم کیا جائے گا







