وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبے میں ترقیاتی فنڈز کے استعمال اور مختلف ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس وزیر اعلی ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں خیبرپختونخوا کے سالانہ ترقیاتی پروگرام، ضم شدہ اضلاع کے سالانہ ترقیاتی پروگرام، تیز رفتار عمل درآمد پروگرام اور غیر ملکی معاونت سے جاری ترقیاتی منصوبوں کے تحت فنڈز کے استعمال کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جاری شدہ فنڈز کے استعمال کے حوالے سے ضم اضلاع کا سالانہ ترقیاتی پروگرام سرفہرست ہے جس کے تحت اب تک 94 فیصد فنڈز استعمال کیے جا چکے ہیں۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ تیز رفتار عمل درآمد پروگرام کے تحت 92 فیصد جبکہ خیبرپختونخوا سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 88 فیصد فنڈز استعمال ہو چکے ہیں۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ مختلف شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تسلی بخش ہے اور آئندہ چند روز میں جاری شدہ فنڈز کے سو فیصد استعمال کا ہدف بھی حاصل کر لیا جائیگا۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے ترقیاتی فنڈز کے مؤثر اور بروقت استعمال کے سلسلے میں اب تک کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو ان منصوبوں کے ثمرات جلد از جلد میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل صوبے کی ترقی، عوامی خوشحالی اور بہتر طرز حکمرانی کے لیے ناگزیر ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صحت اور تعلیم کے شعبے موجودہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں اور نئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں بھی ان شعبوں کے ساتھ دیگر سماجی خدمات کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ عوام کو معیاری طبی سہولیات کی بروقت فراہمی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس مقصد پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ پشاور کے بڑے ہسپتالوں پر بڑھتا ہوا دباؤ صحت کے شعبے میں غیر معمولی توجہ اور مزید مؤثر اقدامات کا متقاضی ہے، جس کے لیے حکومت جامع منصوبہ بندی کے تحت اقدامات کر رہی ہے







