پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ خواجہ آصف کے ضمیر پر بوجھ ہے تو چوری کی گئی سیٹ سے فورا استعفی دیں جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ہم وزیرِ اعظم کی پیشکش پر خوش آمدید کہتے ہیں، لیکن بتایا جائے مذاکرات میں دیر کس بات کی ہے؟۔جمعرات کو قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ خواجہ آصف نے ملاقاتوں کا ذکر کیا ، میں ایف اے ٹی ایف کے بلز پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سہولت کاری کر رہا تھا، افسران اینٹی منی لانڈرنگ اور ایف اے ٹی ایف سے متعلقہ بلز پر ان پٹ دے رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف بتائیں کہ کیا 8 فروری 2024 کا الیکشن ان کے ضمیر پر بوجھ نہیں ہے؟ کیا خواجہ آصف عام انتخابات میں ریحانہ ڈار سے بڑی لیڈ سے نہیں ہارے تھے؟۔انہوں نے کہا کہ اگر خواجہ آصف کے ضمیر پر بوجھ ہے تو وہ مبینہ چوری کی گئی سیٹ سے فوری استعفی دیں، خواجہ آصف ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنے کیلئے آئیں اور دوبارہ ریحانہ ڈار کیخلاف الیکشن لڑ لیں۔ اس موقع پر بیرسٹر گوہر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم وزیرِ اعظم کی پیشکش پر خوش آمدید کہتے ہیں، لیکن بتایا جائے مذاکرات میں دیر کس بات کی ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ آج ایوان کی ابتدا حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اچھے الفاظ سے نہیں ہوئی۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ میں بارہا کہتا ہوں کہ برداشت کا مظاہرہ کریں، اس سے تنا ئوو اور نفرتیں مزید بڑھیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے بانی پی ٹی آئی تک رسائی مانگی ہے، اقبال آفریدی کو معطل کر کے کہا نکل جائیں ورنہ نکال دوں گا، آپ اقبال آفریدی کو اجلاس کے باقی دورانیے کے لیے واپس لے آئیں۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ رانا تنویر نے ہم سے معذرت کی اس کو قبول کرتے ہیں، ایوان کو مضبوط کرنا ہے تو ایک یادداشت پر دستخط کرنا ہوں گے۔







