امریکی صدر ڈونلڈ کی ٹرمپ کی دھمکی کے بعدامریکی فوج نے ایران پرپھرحملے کردئیے ،دارلحکومت تہران سمیت مختلف شہر وں میںدھماکوں کی گونج سنائی دی گئی جبکہ ایران نے امریکی حملے کے جواب میں بحرین میں پانچویں امریکی نیول بیس اور کویت میں امریکی اڈے سمیت 18 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا ہے، تہران کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز بھی مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے جبکہسینٹ کام نے تردیدکردی ۔ ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق جمعرات کی صبح دارلحکومت تہران اور ایرانی شہربندرعباس میں بھی دھماکا سنا گیا ۔تہران کے مہر آباد ایئر پورٹ، کرج شہر، ابیق اور قزوین میں دھماکے سنے گئے۔ شم اور ہینگام جزائر پر میزائل حملے ہوئے جبکہ ایرانی بندرگاہ گر گان میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دی گئیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی شہر سیریک اور میناب میں دھماکوں کی آواز یں سنی گئیں ، مغربی تہران میں فضائی دفاعی نظام فعال ہوگیا ۔ ایرانی میڈیا کہنا ہے کہ امریکا کے حملے کے بعد آبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور پاسداران انقلاب کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی مسلح افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔امریکی جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔ایرانی اعلی مشترکہ فوجی کمان نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے حکم میں تیل بردار اور تجارتی جہاز بھی شامل ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی پابندی کی خلاف ورزی پر ہرمز میں 2 جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ ( سینٹکام ) نے تصدیق کی ہے کہ ایران پر حملے کئے گئے ہیں، یہ حملے ایران کی بلاجواز اور مسلسل جارحیت کے جواب میں کیے گئے ۔سینٹ کام نے آبنائے ہرمز بند ہونے کا ایران کا دعوی مسترد کر دیا۔سینٹ کام نے ایکس پر بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کیلئے بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی سرگرمیاں محفوظ طریقے سے جاری ہیں۔سینٹ کام کے مطابق ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز بند کرنے کا دعوی درست نہیں، اس وقت آبنائے ہرمز میں ایران کا نہیں بلکہ امریکی فوج کا کنٹرول ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران پر تازہ حملوں کے بعد کارروائی روکنے کا اعلان کیا ہے۔امریکی نیوزویب سائٹ کے مطابق امریکا نے جنوبی ایران میں فضائی دفاعی نظام اور ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے ۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا ایران پر جاری حملوں میں کوئی کردار نہیں۔دوسری جانب ایران نے امریکی حملے کے جواب میں بحرین میں پانچویں امریکی نیول بیس اور کویت میں امریکی اڈے سمیت 18 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا ہے، ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز بھی مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعوی کیا ہے کہ اس نے 12 بیلسٹک میزائل استعمال کرتے ہوئے اردن میں واقع الزرق ایئر بیس اور کنٹرول سینٹر پر امریکی فوج کے اہم اہداف کو نشانہ بنایا، حملے میں امریکی فوج کے جدید لڑاکا طیارے، جن میں F-35، F-15 اور F-16 شامل ہیں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی امریکی فوج کی تنصیبات اور آپریشنل ڈھانچے کو نشانہ بنانے کیلئے کی گئی۔سینٹکام نے پاسداران انقلاب کے اس دعوے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے لیکن اس نے ایران میں فوجی ذرائع سے امریکی جنگی جہاز پر حملے اور آبنائے ہرمز کی مکمل بندش کے بارے میں سابقہ رپورٹس کو غلط قرار دیا ہے۔ جمعرات کی صبح امریکی حملوں کے ایک گھنٹہ بعد ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسیوں نے ملک کی فوج کے حوالے سے کہا کہ بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر حملہ کیا گیا ہے، فوج کے ڈرون حملوں میں امریکی پانچویں بیڑے کے پیٹریاٹ سسٹم کے کمیونیکیشن انٹینا اور ریڈار کو نشانہ بنایا گیا۔ بحرین میں فضائی حملے سے بچا ئو کے سائرن بج اٹھے۔ بحرین کی وزارت داخلہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پر سکون رہیں اور فوری طور پر قریب ترین محفوظ مقام کی طرف منتقل ہو جائیں۔وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ہدایت میں عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ صورتحال پر نظر رکھیں اور متعلقہ حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔ وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ ایرانی ڈرون کو تباہ کیے جانے کے بعد گرنے والے ملبے سے 11 سالہ بچی معمولی زخمی ہوگئی جبکہ متعدد گھروں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔وزارتِ داخلہ کے مطابق یہ واقعات حماد ٹاون اور دارالحکومت منامہ میں پیش آئے، جہاں گرنے والے ملبے سے چند گاڑیوں میں آگ لگ گئی اور رہائشی مکانات متاثر ہوئے۔ ادھر کویت کی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے ایرانی جارحیت کے باعث احتیاطی تدابیر کے طور پر ملک کی فضائی حدود عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا ۔اتھارٹی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پروازوں کو منظور شدہ معاہدوں اور طریقہ کار کے تحت متبادل ہوائی اڈوں کی جانب موڑا جائے گا۔کویت کے سرکاری کمیونیکیشن سینٹر کا کہنا ہے کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے فضائی اہداف کو کامیابی کے ساتھ روک کر تباہ کر دیا ہے۔اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ اور امریکی وزیر جنگ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا ایران پر بڑاحملہ کرے گا۔امریکی وزیر جنگ نے کہا تھا کہ امریکا ایران میں اہم تنصیبات پر بمباری کرے گا، حملے شدید ہوں گے، حملے امریکی فوجی مفادات کو آگے بڑھائیں گے اور سفارتی پوزیشن کو مضبوط کریں گے ۔ دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ ایرانی قیادت نے براہِ راست ان سے رابطہ کرکے امریکا سے جاری بمباری روکنے کی درخواست کی ہے، تاہم ایران نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف حالیہ کارروائی میں 49 ٹوماہاک میزائل داغے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکام نے انہیں فون کرکے بمباری روکنے کی درخواست کی۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ایران جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کی شرائط قبول نہیں کرتا تو امریکا مزید سخت فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کا راستہ اب بھی کھلا ہے، تاہم فیصلہ تہران کو کرنا ہوگا۔دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے ٹرمپ کے بیان کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی حکام کی جانب سے امریکی صدر سے کسی قسم کا رابطہ نہیں کیا گیا۔ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ کا یہ دعوی بے بنیاد ہے اور جنگی صورتحال سے نکلنے کے لیے ایک سیاسی بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش ہے۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران اپنی قومی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام جاری رکھے گا اور بیرونی دبا کے تحت کوئی فیصلہ نہیں کرے گا۔امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد دونوں ممالک کے بیانات میں واضح تضاد سامنے آیا ہے، جس کے باعث خطے کی صورتحال مزید غیر یقینی ہوتی جا رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور عسکری محاذوں پر پیش رفت انتہائی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔







