شعیب جمیل
ایڈیشنل سیشن جج ٹوپی صوابی نے شہری کو حبس بے جامیں رکھنے اورچاردیواری تقدس پامال کرنے کی پاداش میں22اے کی درخواست منظورکرتے ہوئے ایس ایچ اوسمیت دیگر پانچ اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے احکامات جاری کردیئے ۔ استغاثہ کے مطابق محمدا فضل خان نامی شہری سیشن کورٹ میں پولیس کے خلاف طلحہ یوسفزئی ایڈووکیٹ کی تواسط سے 22اے کی درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اپنایاکہ وہ پاک فوج میں اپنی خدمات سرانجام دے رہاہے ،گزشتہ رات وہ اپنے گھر میں موجودتھا کہ اس دوران پولیس اہلکارجن میں اے ایس آئی نصیب خان اور ہمایون اورانکے ساتھ ہیڈکانسٹیبل فرزند، سپاہی ضیاد اور دیگر نامعلوم پولیس اہلکاروں نے انکے گھر پر غیر قانونی چھاپہ ماکر چاردیورای کے تقدس کو پامال کرکے خواتین کے ساتھ بدتمیزی کی جبکہ گھر میں موجود مہران گاڑی اور دیگر قیمتی اشیاء ساتھ لیکر مجھے بھی چار گھنٹے تک حبس بے جامیں رکھنے کے بعد مجھے رہاکیا، جس کے خلاف میں ڈی پی او سمیت دیگر حکام کو پولیس اہلکاروںکے خلاف کاروائی کیلئے درخواستیں دی ، مگر کہیں سنوائی نہیںہوئی جس پر جسٹس آف پیس کے تحت عدالت سے رجوع کیاگیالہذاان پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کاروائی کرتے ہوئے انکی درخواست منظورکی جائے ۔ دوسری جانب پولیس حکام نے عدالت میں رپورٹ جمع کراتے ہوئے بتایاکہ درخواست گزار کے والد اور بھائی مختلف منشیات کے مقدمات درج ہیںاور اس حوالے سے چھاپہ زنی کے دوران تمام قانونی طریقہ کار اپنایاگیاتھا، بعدازیں عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر درخواست گزار کی 22اے کی درخواست منظور کرتے ہوئے ڈی پی او صوابی کوایس ایچ او تھانہ ٹوپی سیف اللہ ، اے ایس آئی نصیب جان ، ہمایون ، ہیڈ کانسٹیبل فرزند اور سپاہی ضیاد کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ درج کرنے کے احکامات جاری کردیئے ۔







