ایڈیشنل سیشن جج امتیاز علی نے تفتیش میں غفلت برتنے اور جھوٹی گواہی دینے پر پشاور پولیس کے پولیس انسپکٹر کو10 سال قید کی سزا سنا دی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج امتیاز علی نے قتل کیس کے فیصلے میں تفتیشی افسر ہدایت اللہ کو دفعہ 193 اور 186 کے تحت سزا سنائی۔ عدالت کے مطابق تفتیشی افسر نے قتل کیس میں اہم ڈیجیٹل شواہد فرانزک لیب نہیں بھجوائے اور چشم دید گواہوں کے بیانات بھی قلمبند نہیں کیے۔ ملزم نے اپنی صفائی میں ‘کام کے بوجھ’ کا بہانہ بنایا جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔ دوران سماعت ملزم نے کمرہ عدالت سے فرار ہونے کی کوشش بھی کی جسے پراسیکیوشن نے ناکام بنا دیا۔ عدالت نے تفتیشی افسر کو مجرم قرار دیتے ہوئے فوری طور پر سینٹرل جیل پشاور منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔







