محکمہ ٹرانسپورٹ کے کمپیوٹرآپریٹرز کو تنخواہی کی فوری ادائیگی کا حکم

پشاور ہائی کورٹ نے محکمہ ٹرانسپورٹ کے 45کمپیوٹر آپریٹرز کی تنخواہوں سے متعلق دائر توہین عدالت درخواست کی سماعت کرتے ہوئے بقایاجات سمیت تنخواہوں کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔درخواست کی سماعت چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کی۔ سماعت کے دوران ڈپٹی سیکرٹری ٹرانسپورٹ، ڈپٹی ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ اور درخواست گزاران عدالت میں پیش ہوئے۔درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ وہ 2003 میں محکمہ ٹرانسپورٹ کے ایک منصوبے کے تحت بھرتی ہوئے تھے اور بعد ازاں پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر انہیں مستقل کیا گیا، تاہم سپریم کورٹ نے مستقلی سے متعلق ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا۔ ان کا موقف تھا کہ محکمہ گزشتہ دس برس سے ان سے کام تو لے رہا ہے لیکن تنخواہیں ادا نہیں کی جا رہیں۔سماعت کے دوران چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر آپریٹرز کو بی پی ایس-16 کے مطابق تنخواہیں ادا کی جائیں۔ اس پر ڈپٹی سیکرٹری ٹرانسپورٹ نے عدالت کو بتایا کہ انہیں حکومت کی مقرر کردہ کم از کم اجرت کے مطابق ادائیگی کی جائے گی۔چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ 40 ہزار روپے میں گھر کا خرچہ چلانا ممکن نہیں۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ ہائی کورٹ میں ایک مالی کو بھی 60 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے۔عدالت نے درخواست گزاروں کو بقایاجات سمیت تنخواہوں کی ادائیگی کا حکم دیتے ہوئے صوبائی حکومت اور محکمہ ٹرانسپورٹ سے رپورٹ طلب کر لی اور مزید سماعت ملتوی کر دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed