پشاور ہائیکورٹ نے مردان لونڈ خود اور تخت بھائی میں ہسپتالوں کی نجکاری کے خلاف دائر تمام رٹ پٹیشنز خارج کردیں ۔کیس کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجازانور اور فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔ عدالت میں درخواست گزاروں کے وکلا، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل اور وکیل ہیلتھ فائونڈیشن حبیب انور ایڈووکیٹ پیش ہوئے ۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ حکومت ہسپتالوں کی نجکاری کررہی ہے جبکہ آئین کے صحت کی سہولیات شہریوں کا بنیادی حق ہیاور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عوام کو مفت صحت کی سہولیات دے۔انہوں نے دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 38 ڈی کے تحت مفت صحت سہولت ہر شہری کا بنیادی حق ہے ہسپتالوں کی پرائیوٹائزیشن کی وجہ سے علاج مزید مہنگا ہوگا۔انہوں نے استدعا کی کہ مذکورہ اقدام کو کالعدم قراردیا جائے۔اس موقع پر ہیلتھ فائونڈیشن کے وکیل حبیب انور ایڈووکیٹ نے عدالت کوبتایا کہ حکومت عوام کو بہتر صحت سہولیات فراہمی کے لئے اقدامات کررہی ہے، ہسپتالوں کو آوٹ سورس کرنے سے علاج مہنگا نہیں ہوگا بلکہ ہسپتالوں کو فنڈ حکومت فراہم کرے گی۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کوبتایا کہ حکومت خیبرپختونخوا کے عوام کو صحت کارڈ پر مفت علاج فراہم کررہی ہے ہسپتالوں میں علاج اور سروس بہتر کرنے کے مزید بہتر کرنے کے لئے حکومت یہ اقدامات اٹھا رہی ہے، آوٹ سورس کرنے سے عوام پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑے گا ۔انہوں نے بتایاکہ ہسپتالوں کو فنڈ حکومت فراہم کرے گی ہسپتالوں میں 24 گھنٹے عوام کو سہولیات فراہمی کے لئے یہ اقدامات کئے جارہے ہیں،کابینہ نے اس کی منظوری دی ہے اور 2016 میں حکومت نے یہ قانون سازی کی ہے۔عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر لوند خوڑ اور تخت بھائی کے ہسپتالوں کی نجکاری کے خلاف تمام درخواستیں خارج کردی اور قرار دیا کہ عدالت کا حکومت کی پالیسیوں میں مداخلت کا اختیار محدود ہے







