سالانہ اربوں روپے کا گوشت برآمد کرنے والے بھارت نے مسلمانوں کے خلاف متعصب رویہ اپناتے ہوئے عیدالاضحی سے قبل مذہب کے نام پر ذبیحے پر پابندی لگا دی۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بقر عید سے قبل دہلی کی حکومت نے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے گائے، بچھڑے، اونٹ اور دیگر جانوروں کی قربانی کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دے دیا، صوبائی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں گے۔دہلی کے ترقیاتی وزیر کپل مشرا کی جانب سے جاری کیے گئے ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ سڑکوں، گلیوں اور دیگر عوامی مقامات پر قربانی کی ہرگز اجازت نہیں ہو گی، قربانی صرف حکومت سے منظور شدہ مقامات پر ہی کی جا سکے گی۔ہدایت نامے کے مطابق قربانی کا فضلہ نالوں، سیوریج لائنوں یا عوامی مقامات پر پھینکنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔حکومت نے جانوروں کی غیر قانونی خرید و فروخت، نقل و حمل اور غیر قانونی ذبح کے خلاف خصوصی نگرانی اور سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔دہلی حکومت نے واضح کیا ہے کہ موجودہ قوانین کے تحت اونٹ کا ذبیحہ بھی غیر قانونی ہے جبکہ دہلی زرعی مویشی تحفظ قانون 1994 کے تحت گائے اور بچھڑے کے ذبیحے پر پہلے ہی مکمل پابندی عائد ہے۔یہ ہدایات تمام ضلعی مجسٹریٹس، پولیس حکام اور میونسپل اداروں کو ارسال کر دی گئی ہیں۔







