پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے بتایا ہے کہ نیسپاک نے نیلم جہلم منصوبے میں تکنیکی خامیاں اور ناقص نگرانی کی۔ نیلم جہلم پاور پلانٹ سرنگ گرنے کے باعث جولائی 2022 میں بند ہوا۔آڈیٹر جنرل حکام نے بتایا کہ نیلم جہلم ٹنل میں مئی 2024 میں دوبارہ حادثہ پیش آیا، منصوبے کی بندش سے بجلی پیداوار میں اربوں روپے کا نقصان ہوا۔حکام نے کہا کہ نیسپاک جوائنٹ وینچر منصوبے کے ڈیزائن سے تعمیراتی نگرانی تک تمام مراحل میں شامل رہی،بحالی اور بجلی کی پیداوار بند ہونے سے مجموعی نقصان 42 ارب 93 کروڑ 40 لاکھ روپے تک پہنچ گیا۔سیکرٹری کابینہ ڈویژن نے کہا کہ اس معاملے پر وفاقی حکومت انکوائری کر رہی ہے، سابق سیکرٹری داخلہ شاہدعلی کی سربراہی میں کمیٹی انکوائری کر رہی ہے۔







