ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا ادریس س قتل کیس کے دو ہفتے مکمل ہو گئے ہیں تاہم ملزمان کی گرفتاریاں ابھی تک عمل میں نہیں لائی گئی ہے پانچ مئی کو چارسدہ کے علاقے اتمانزئی میں مدرسے کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی تھی جس میں مولانا محمد ادریس شہید ہو گئے تھے جبکہ ان کے دو سرکاری محافظ زخمی ہو گئے تھے صوبے کے اہم ترین مذہبی شخصیت مولانا محمد ادریس کے قتل کے دو ہفتے سے زائد گزر گئے ہیں تاہم ابھی تک ملزمان کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے مولانا ادریس شہید کے سسر مولانا حسن جان کو 19 سال قبل شہید کیا گیا تھا۔صوبے میں 40 سے زائد علما کو شہید کیا گیا ہے جبکہ پولیس کی جانب سے اعلی سطح تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے مولانا محمد ادریس کا شمار پاکستان کے اہم ترین علما میں سے ہوتا تھا اور ان کے پاکستان سمیت دنیا بھر میں لاکھوں کی تعداد میں شاگرد موجود ہے ان کے نماز جنازہ میں لاکھوں کی تعداد میں ان کے عقیدت مندوں نے شرکت کی تھی۔







