پشاور ہائیکورٹ نے جج اور عدالتی عملے کے خلاف مبینہ نازیبا زبان استعمال کرنے کے معاملے میں ایڈووکیٹ الطاف صمد کا وکالت لائسنس معطل کرتے ہوئے تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔عدالت نے ایڈووکیٹ الطاف صمد کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے ان کے خلاف تادیبی کارروائی کے لیے معاملہ پاکستان بار کونسل کو بھیج دیا ہے۔تحریری حکم نامے کے مطابق الطاف صمد ایک مقدمے میں درخواست گزار کے وکیل تھے، تاہم وہ کبھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ عدالت کی جانب سے انہیں شوکاز نوٹس جاری کیا گیا کہ وہ اپنی قانونی ذمہ داری کیوں پوری نہیں کر رہے۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وکیل نے ایک موقع پر کیس ملتوی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے مقف اختیار کیا کہ وہ سپریم کورٹ میں مصروف ہیں، تاہم عدالتی ریکارڈ کے مطابق اس روز سپریم کورٹ میں ان کا کوئی مقدمہ زیر سماعت نہیں تھا۔ عدالت کے مطابق وکیل نے کیس ملتوی کرانے کے لیے غلط معلومات فراہم کیں۔عدالت نے مزید کہا کہ جب کیس سماعت کے لیے مقرر تھا تو ریڈر نے وکیل کو کیس اور شوکاز نوٹس کے حوالے سے آگاہ کیا، جس پر مبینہ طور پر وکیل نے ریڈر کے ساتھ بدتمیزی کی اور جج و عدالتی عملے کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی۔حکم نامے کے مطابق ریڈر کی اطلاع پر سی سی ٹی وی ریکارڈنگ طلب کی گئی، جس سے بدتمیزی اور نامناسب زبان استعمال کرنے کی تصدیق ہوئی۔عدالت نے وکیل کا لائسنس معطل کرتے ہوئے حکم دیا کہ ایڈووکیٹ الطاف صمد ہائیکورٹ سمیت کسی بھی عدالت میں پیش نہ ہوں۔ مزید کارروائی کے لیے کیس چیف جسٹس کو بھجوا دیا گیا ہے تاکہ کسی دوسرے جج کو مقرر کیا جا سکے۔







