بینک ڈکیتیوں میں ملوث خطرناک گینگ بے نقاب، تین ملزمان گرفتار

پشاور پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے ورسک روڈ پیر بالا چوک میں کروڑوں روپے کی بینک ڈکیتی ناکام بنانے اور کوہاٹ روڈ پر نجی بینک میں خونی ڈکیتی میں ملوث منظم گینگ کو بے نقاب کرتے ہوئے تین خطرناک ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ کارروائی کے دوران شہید ہونے والے ایڈیشنل ایس ایچ او بہار علی کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔20جنوری 2026کو تھانہ انقلاب کی حدود کوہاٹ روڈ پر نجی بینک میں ہونے والی خونی ڈکیتی اور 6 مارچ 2026 کو ورسک روڈ پیر بالا چوک میں کروڑوں روپے کی ڈکیتی ناکام بنانے کے دوران ایڈیشنل ایس ایچ او بہار علی کی شہادت کے واقعات پر آئی جی خیبرپختونخوا پولیس کے سخت نوٹس کے بعد سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد کی نگرانی میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔

ٹیموں میں ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان، ایس ایس پی انوسٹی گیشن عائشہ گل، ایس پی محمد ارشد خان، ایس پی فدا حسین اور دیگر افسران شامل تھے۔خصوصی ٹیموں نے سیف سٹی پراجیکٹ کی مدد سے جدید سائنسی و تکنیکی بنیادوں پر تفتیش کا آغاز کیا اور ضلع خیبر کے علاقوں تیراہ و باڑہ، ضلع چارسدہ اور پشاور کے مختلف علاقوں میں متعدد چھاپہ زنی کارروائیاں کیں جبکہ کئی مشتبہ افراد کو شامل تفتیش کیا گیا۔ گزشتہ شب اطلاع ملنے پر تھانہ مچنی گیٹ کی حدود نادرن بائی پاس میں کارروائی کرتے ہوئے گینگ کے تین خطرناک ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ دیگر تین ملزمان موٹر سائیکل پر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔گرفتار ملزمان میں محمد شعیب ولد یوسف خان سکنہ باڑہ ضلع خیبر، محمد عمر عرف وجاہت ولد رومان خان سکنہ بڈھ بیر سلمان خیل اور محمد عماد ولد معراج الحق سکنہ اتمانزئی چارسدہ حال صفیہ ہوم شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان مختلف تھانوں میں قتل، ڈکیتی، اقدام قتل، دہشت گردی سمیت متعدد سنگین مقدمات میں مطلوب اشتہاری ہیں۔پولیس حکام کے مطابق فرار ہونے والے ملزمان کی گرفتاری کیلئے مختلف مقامات پر چھاپہ زنی جاری ہے جبکہ گرفتار ملزمان سے مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed