ترقی پذیر آٹھ ممالک کی تنظیم برائے اقتصادی تعاون ڈی ایٹ کے سیکرٹریٹ نے ویزا انتظامات سے متعلق امور پر ایک اعلی سطحی ورچوئل اجلاس منعقد کیا، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان نقل و حرکت میں سہولت، باہمی رابطوں کے فروغ اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانا تھا۔عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش کی زیر صدارت ہونے والے اس اجلاس میں ڈی ایٹ کمشنرز اور رکن ممالک کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی جہاں شریک ممالک کے درمیان سفری سہولیات کو آسان بنانے سے متعلق تجاویز پر غور کیا گیا۔اپنے خطاب میں ڈی ایٹ تنظیم کے سیکرٹری جنرل سفیر سہیل محمود نے کہا کہ بہتر نقل و حرکت اور سفری طریقہ کار کو آسان بنانا اقتصادی انضمام، ادارہ جاتی تعاون کے فروغ اور ڈی ایٹ خطے میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کے لیے نہایت ضروری ہے۔سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ آسان ویزا اور سفری انتظامات تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مضبوط بنانے، منصوبوں پر تیز رفتار عملدرآمد، ادارہ جاتی روابط کے فروغ اور عوامی سطح پر روابط بڑھانے میں براہ راست معاون ثابت ہوں گے۔سافٹ کنیکٹیویٹی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے سفیر سہیل محمود نے کہا کہ یہ مجوزہ حکمتِ عملی ڈی ایٹ دہائی روڈ میپ 2020-2030 کی ترجیحات سے ہم آہنگ ہے، خصوصا تنظیم کے اس ہدف کے مطابق جس کا مقصد ڈی-8 ممالک کے درمیان تجارت میں اضافہ اور اقتصادی انضمام کو مزید گہرا کرنا ہے۔اجلاس میں ڈی-8 رکن ممالک کے تاجروں کے لیے ویزا طریقہ کار کو آسان بنانے کے معاہدے پر عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، سفارتی اور سرکاری/سروس پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے موجودہ دوطرفہ ویزا استثنی کے انتظامات کو نوٹ کیا گیا، جبکہ تسلیم شدہ کاروباری شخصیات کے لیے مزید سہولت فراہم کرنے کے طریقوں پر بھی غور کیا گیا۔رکن ممالک نے اس موضوع کے قانونی، تکنیکی اور عملی پہلوں پر تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ایسے عملی اور باہمی مفاد پر مبنی انتظامات تیار کیے جائیں جو نقل و حرکت، رابطوں، اقتصادی تعاون اور عوامی روابط کے فروغ میں معاون ثابت ہوں۔سیکرٹری جنرل نے اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے مشاورت جاری رکھنے اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے حوالے سے ڈی-8 سیکرٹریٹ کے عزم کا اعادہ کیا۔ترقی پذیر آٹھ ممالک کی تنظیم برائے اقتصادی تعاون ڈی ایٹ میں بنگلہ دیش، مصر، انڈونیشیا، ایران، ملائیشیا، نائجیریا، پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان شامل ہیں، اور یہ تنظیم رکن ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، تجارت کے فروغ اور پائیدار ترقی کے لیے کام کر رہی ہے۔







