چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ مئی 2025 کی لڑائی کے بعد شکست خوردہ بھارت نے امریکی قیادت کے ذریعے ثالثی کی پیشکش کی تھی،بھارت ایک بار پھر دہشت گردی کا سہارا لے رہا ہے، ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے،دشمن جان لے آئندہ مہم جوئی کے اثرات محدود نہیں بلکہ انتہائی خطر ناک ہوں گے، پاکستان کا دفاع کسی بھی بیرونی جارحیت کیخلاف مکمل طور پر ناقابل تسخیر ہے،ملکی خود مختاری، سرحدی سالمیت اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں، بھارت کو ا س جنگ کے نتیجے میں شدید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا جس کی قیمت وہ آنے والے وقتوں تک چکاتا رہے گا،صدر، وزیراعظم، وفاقی کابینہ، قومی و صوبائی سیاسی قیادت اور تمام سیاسی جماعتوں کا بھی شکریہ ادا کیا، جن کی سیاسی بصیرت اور رہنمائی سے پاکستان کو یہ کامیابی حاصل ہوئی،افغانستان اپنی سرزمین سے دہشت گردی کے مراکز کا مکمل خاتمہ کرے،کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مدد جاری رکھیں گے ۔ان خیالات کا اظہار فیلڈ مارشل نے معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف نے شہدا کی یادگار پر حاضری دی اور پھول رکھے، مسلح افواج کے چاق و چوبند دستوں نے سلامی پیش کی ہے۔معرکہ حق کی پہلی یادگاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ آج کا دن ہم سب کے لیے قابل فخر ہے، دشمن کی جارحیت کا قومی وحدت و جرت سے جواب دیا گیا، پاکستان نے ہمیشہ دشمن کے اندازوں کو ناکام بنایا۔ معرکہ حق میں اللہ تعالی کی رضا سے پاکستان، عوام اور مسلح افواج کو ایک بے مثال کامیابی ملی۔ معرکہ حق دو ممالک کے درمیان لڑی جانے والی جنگ نہ تھی یہ دونظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا، 6 اور7 مئی کی درمیانی شب سے 10مئی تک دشمن نے ہمارے قومی وقار کو آزمانے کی ناکام کوشش کی۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ مئی 2025 کا معرکہ کوئی اچانک پیش آنے والا معرکہ نہ تھا، ماضی میں بھی دشمن نے پاکستان پر بے بنیاد اور من گھڑت الزامات لگانے کی کوشش کی لیکن معرکہ حق میں بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا گیا، پاکستان کے دشمن کو ہر بار شکست سے دوچار کیا گیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ ہندوستان کا خواب ہے کہ وہ پاکستان کو عسکری جارحیت اور سفارتی تنہائی کا نشانہ بنا کر خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کرے، اس کا یہ خواب اس کے قد کاٹھ اور صلاحیت سے کہیں زیادہ ہے جسے پاکستان کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گا، پچھلے ایک برس کے دوران پاکستان کے قومی وقار میں بہت اضافہ ہوا جس اعتراف دنیا بھر میں ہو رہا ہے، آج ماضی کے مقابلے میں دنیا بھر میں ہمارے دوستوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے







