پشاورہائیکورٹ بارایسوسی ایشن نے ایک سال کے دوران حاصل ہونے والی آمدنی واخراجات سے متعلق سالانہ آڈٹ رپورٹ پیش کردی ہے۔ پشاورہائیکورٹ بارایسوسی ایشن کی جانب سے 28اپریل 2025سے 28اپریل 2026تک جاری آڈٹ رپورٹ کے مطابق نئی کابینہ کی تشکیل پر ان کے پاس 1کروڑ 66لاکھ سے زائد کی رقم بینک اکاونٹ میں پڑی تھی ،اس دوران ہائیکورٹ احاطہ میں دکانوں سے حاصل ہونے والی آمدنی 66لاکھ سے زائد، پاورآف اٹارنی کی مدمیں حاصل ہونے والی رقم 36لاکھ سے زائد، فائل کور کی مد میں 39لاکھ سے زائد، پاکستان لاءسائٹ انکم کی مد میں21لاکھ سے زائد ،کارپارکنگ کی مد میں 15لاکھ 70ہزار،ممبرشپ انکم19لاکھ سے زائدرہی۔ اسی طرح کینٹن رینٹ کی مد میں 17لاکھ کے علاوہ وزیراعلی خیبرپختونخوا کی جانب سے انہیں5کروڑ روپے گرانٹ اور منسٹری آف لاءسے 1کروڑروپے حاصل ہوئے جبکہ دیگر مدوں میں بھی آمدنی ہوئی۔ اس طرح پورے سال کے دوران مجموعی طورپر8کروڑ 26لاکھ سے زائد کی رقم آمدن حاصل ہوئی تاہم اس ایک سال کے دوران 1کروڑ 66لاکھ سے زائد کی رقم ملازمین کی تنخواہوں میں چلی گئی، اس کے علاوہ 26لاکھ سے زائد پاور آف اٹارنی وفائل کور،الیکٹرک انسٹالیشن اینڈ سولرائزیشن کی مد میں 32لاکھ سے زائدکے اخراجات ہوئے ۔آڈٹ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ میجرایکٹس پر 60لاکھ، سٹیشنری پر 69لاکھ سے زائد، مرمت کے کاموں پر 54لاکھ سے زائد، کمپیوٹرز کی مد میں 34لاکھ سے زائد،حلف برداری تقریب اور کنونیشنز پر 17لاکھ سے زائد،پلازہ کی مد میں 1کروڑ 37لاکھ سے زائدجبکہ 13لاکھ سے زائد روپے ویب سائٹس پر خرچ ہوئے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق 12لاکھ سے زائد انڈومنٹ فنڈزاورمختلف اخرجات 17لاکھ سے زائد رہے اس کے علاوہ دیگر ادائیگیاں بھی کی گئیں ہیں۔ اس طرح مجموعی طو رپر ایک سال کے دوران 6کروڑ 65لاکھ سے زائد کے اخراجات ہوئے جبکہ بینک اکاونٹ میں اس وقت 3کروڑ 27لاکھ سے زائد کی رقم پڑی ہے ۔ بارایسوسی ایشن کے صدر امین الرحمان ایڈوکیٹ کے مطابق آڈٹ رپورٹ پیش کرنے کامقصد ادائیگیوں، اخراجات اور حاصل ہونے والی آمدنی میں شفافیت کو برقراررکھنا ہے ،انہوں نے بتایاکہ یہ رقم وکلاءکا حق ہے جسے ایمانداری اور نیک نیتی سے وکلاءکی فلاح وبہبود پر استعمال کیاگیا ہے اور وہ خود کو جوابدہ سمجھتے ہیں۔







