معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں بدترین لوڈشیڈنگ وفاقی حکومت کی نااہلی کا ثبوت ہے۔ صوبے کے دیہی علاقوں میں روزانہ 20 سے 22 گھنٹے تک بجلی کی بندش معمول بن چکی ہے۔شفیع جان نے کہا مقامی ضروریات سے زیادہ پیداوار کے باوجود خیبرپختونخوا میں بجلی اور گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ عوام نے بھاری اکثریت سے عمران خان کو مینڈیٹ دیا، جس کی سزا لوڈشیڈنگ کی صورت میں دی جا رہی ہے۔ خیبرپختونخوا میں سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی سپلائی بھی بند کی گئی ، جس سے غریب اور ڈرائیور طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔ وفاقی حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث صنعت سمیت ہر شعبہ تنزلی کا شکار ہو چکا ہے۔ موجودہ فارم 47 حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں سے کارخانے بند اور بیرونی سرمایہ کاری رک گئی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ریکارڈ قرضے موجودہ حکومت کے دور میں لیے گئے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم تشویشناک ہے۔ وفاق نے پنجاب کے منصوبوں کے لئے اربوں روپے کے فنڈز فراہم کئے ۔ پی ایس ڈی پی میں خیبرپختونخوا کے لیے محض 55 کروڑ روپے رکھے گئے۔وفاقی حکومت نے ضم اضلاع کے فنڈز روک رکھے ہیں۔ وفاق نے وعدے کے مطابق ضم اضلاع کے لیے ہر سال 100 ارب روہے فراہم کرنے تھے۔ بدقسمتی سے وفاق نے سات سال کے دوران ضم اضلاع کے لیے صرف 168 ارب روپے جاری کیے، 532 ارب روپے تاحال وفاق کے ذمے واجب الادا ہیں۔







