ضلع چارسدہ کے تحصیل شبقدر کے علاقہ بٹگرام سکنہ الہ داد خیل میں پانچ رمضان کی تراویح کے دوران مسجد میں قتل کیے گئے32 سالہ گریڈ 16 کے آفیسر عنایت اللہ کے والد جان محمد نے اپنے 70 سالہ چچازاد بھائی پرویز ولد مہر دل کی بیوہ پریاز بیگم کے ہمراہ پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران شب قدر پولیس کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھا دیے انہوں نے کہا کہ 13 افراد کے ٹولے جن کی قیادت نیاز محمد اور شفیع اللہ، محمد شاہ، زوتا خان ، اول خان اور درویش کر رہے تھے نے دیگر حملہ آوروں کے ساتھ پولیس کی ملی بھگت سے مسجد کے اندر پہلے میرے بیٹے کو اور چچا زاد بھائی کو تراویح کے دوران قتل کیا جب ہم نے اپنے پیاروں کی لاشیں پولیس کے حوالے کی پوسٹ مارٹم کے لیے تو الٹا مجھے ہتھکڑیاں پہنا کر حوالات میں بند کیا گیا اور میرے ہی خلاف ایف ائی ار درج کی گئی۔ 78سالہ جان محمد نے کہا کہ نہ تو مجھے میرے بیٹے اور میرے چچا زاد بھائی کے جنازے میں شرکت کے لیے چھوڑا گیا اور نہ مجھے انصاف فراہم کیا گیا اور میں ایک لمبے عرصے کے لیے جیل چلا گیا اور میرا گھر، کاروبار سب کچھ بند ہو گیا اور آج انصاف کے لیے میں اور میرے چچا زاد بھائی کی بیوہ انصاف کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہوں لیکن مجھے کہیں سے انصاف نہیں مل رہا۔ جان محمد نے کہا کہ وہ 1965 اور 1971کی جنگوں میں بھی حوالدار کی حیثیت سے حصہ لے چکے ہیں اور ان کی فیملی کے کئی افراد پاکستان آرمی سے منسلک رہے ہیں لیکن جو پاکستان کے لیے لڑ رہا ہے اسے انصاف نہیں مل رہا انہوں نے کہا کہ انصاف کے تمام دروازے بند ہونے کے بعد وہ آج پشاور پریس کلب آئے ہیں کہ کوئی ان کی آواز سن لے اور ان کو انصاف فراہم کریں انہوں نے کہا کہ ظالموں نے ایک طرف ان کی زندگی کا آخری سہارا چھینا اور دوسری طرف ان کے چچا زاد بھائی بے گناہ بے خطا خانہ خدا میں شہید کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ علاقہ ڈی ایس پی رشید نے ہمارے ہی خلاف قاتلوں کی مدد سے ایف آئی آر کاٹی اور ہمیں بالکل نہیں سنا گیا جس کی وجہ سے قاتل آج بھی علاقے میں کھلم کھلا دندناتے پھر رہے ہیں ہمارے گھروں کو تالے لگ گئے ہیں کاروبار بند ہو گئے ہیں ہمارے بچے سکولوں کو نہیں جا رہے۔ پریس کانفرنس سے مسجد میں قتل کیے گئے عنایت اللہ خان کے والد اور پرویز ولد مہر دل کی بیوہ نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، انسپکٹر جنرل خیبر پختونخوا، چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا، اور آرمی کے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ ان کے ساتھ خانہ خدا میں ہونے والی ظلم و بربریت کا نوٹس لیا جائے جس میں ان کا زندگی کا آخری سہارا بیٹا اور ان کا چچا زاد بھائی کو ظالموں نے پولیس کی مدد سے گولیوں سے چھلنی کر کے شہید کر لیا







