خیبرپختونخواحکومت نے مری کو سپلائی ہونیوالے پانی کا معاوضہ طلب کرلیا

خیبر پختونخوا حکومت نے پاکستان بننے کے بعد گلیات سے مری کو روزانہ 5 لاکھ گیلن سپلائی ہونے والے پانی کا معاوضہ طلب کرلیا۔ وفاقی حکومت کو پنجاب سے 64 ارب 62 کروڑ روپے کے واجبات وصولی کے لئے خط بھجوا دیا گیاہے۔ خط کی کاپی پنجاب حکومت کو بھی بھجوائی گئی ہے، جس میں گلیات میں پانی کا بحران اور پنجاب حکومت کے ذمے پانی کے بقایاجات کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ خط میں پاکستان بننے سے اب تک پانی سپلائی کے مد میں پنجاب حکومت سے 64 ارب 62 کروڑ دینے کا دعوی اور مطالبہ کیا ہے ۔مکتوب میں کہا گیا کہ گلیات میں پانی کا بحران ہے اور مری واٹر بورڈ غیرمجاز طور پر پانی لے جا رہا ہے ۔مری واٹر بورڈ کسی معاہدے اور معاوضیکیبغیر گلیات سے روزانہ پانچ لاکھ گیلن پانی نکال رہاہے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے گلیات میں مری واٹر بورڈ کی جانب سے بغیر اجازت واٹرسپلائی انفراسٹرکچر اور ڈونگا گلی میں 20 لاکھ گیلن پانی کیواٹرٹینک کی تعمیر روکنے کا بھی کہا ہے۔خط میں وزارت بین الصوبائی رابطہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ دونوں صوبائی حکومتوں میں معاہدہ طیکرنے میں تعاون فراہم کرے ۔ گلیات کے متعلقہ تمام چشموں، آبشاروں اور پانی کے ذخائر پرخیبر پختونخوا کا حق تسلیم کرے ۔صوبائی حکومت نے گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو پنجاب کیساتھ پانی کی تقسیم کا معاہدہ کا اختیار دے دیا گیا ہے جبکہ حتمی معاہدے تک اڑھائی لاکھ گلین پانی گلیات کو دینے کی ہدایت ک ہے جبکہ مری کو اڑھائی لاکھ گیلن پانی مارکیٹ ریٹ پر دینے کا کہا ہے۔ڈونگا گلی سیمری تک واٹر سپلائی انفراسٹرکچر برطانوی دورحکومت میں تعمیر کیا گیا تھا،مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ گلیات میں زیر زمین پانی پر خیبر پختونخوا حکومت اور جی ڈی اے کی خطیر بجلی خرچ ہوتی ہے اس لئے وزارت بین الصوبائی رابطہ کیذریعے پنجاب سے کہا ہے کہ مری کیلئے متبادل پانی کا انتظام کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed