پوپ پر تنقید، امریکا میں ٹرمپ مخالف نئے طوفان کا خدشہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہارم کے درمیان ایران کی جنگ اور خارجہ پالیسی کے معاملات پر اختلاف شدت اختیار کر گیا ۔ وائٹ ہائوس میں ٹرمپ کے حالیہ بیان اور پوپ کے امن سے متعلق موقف کے بعد یہ معاملہ عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے پوپ لیو چہارم کی خارجہ پالیسی سے متعلق رائے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ پوپ کے مقف سے اتفاق نہیں رکھتے اور ان کے مطابق پوپ کی پالیسی انتہائی کمزور ہے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے حوالے سے پوپ کا موقف ایک ایسے ملک کے حق میں سمجھا جا رہا ہے جس پر عالمی سطح پر سنگین الزامات عائد ہیں۔یہ تنازع اس وقت مزید بڑھا جب پوپ لیو چہارم نے ایران کے خلاف امریکی جنگی بیانات پر تشویش کا اظہار کیا اور جنگ بندی سے قبل سخت بیانات کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔پوپ نے اپنے بیان میں امن کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی تعلیمات کے مطابق جنگ کو جواز نہیں دیا جا سکتا اور عالمی رہنماں کو امن کے راستے پر آنا چاہیے۔اس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ٹروتھ سوشل پر ایک تفصیلی پوسٹ میں پوپ کی قیادت اور خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ ان کے خلاف ویٹیکن کا مقف سیاسی نوعیت رکھتا ہے۔دوسری جانب ویٹیکن کے ایک اعلی عہدیدار فادر انتونیو سپاڈارو نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پوپ ایک اخلاقی اور امن کی آواز ہیں جنہیں دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ان کا کہناتھا کہ پوپ کا موقف طاقت یا مفاد کے بجائے امن، انسانیت اور عالمی ہم آہنگی پر مبنی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس تنازع کے اثرات امریکی داخلی سیاست پر بھی پڑ سکتے ہیں، کیونکہ امریکا میں کیتھولک ووٹرز کی بڑی تعداد موجود ہے جو اس صورتحال کو حساس انداز میں دیکھ رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ویٹیکن اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی تعلقات میں بھی تنا کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed