پھولوں سے خوشبو تک

تحریر: ڈاکٹر مسعود احمد

پاکستان کے بے شمار گھروں میں پھول خاموشی سے باغیچوں میں کھلتے ہیں اور اپنی خوبصورتی اور خوشبو سے دلوں کو مسحور کرتے ہیں۔ مگر ان کی ظاہری دلکشی سے آگے ایک ایسی معاشی صلاحیت پوشیدہ ہے جو روزگار کے مواقع پیدا کر سکتی ہے، نوجوانوں کو بااختیار بنا سکتی ہے اور پائیدار ترقی میں کردار ادا کر سکتی ہے۔

فلوریکلچر کے شعبے میں میرا پیشہ ورانہ سفر 2004 میں شروع ہوا، جب میں نے ہارٹیکلچر میں اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل کی۔ آرائشی پودوں سے ذاتی وابستگی رفتہ رفتہ ایک تحقیقی مشن میں تبدیل ہوگئی—ایسا مشن جس کا مقصد صرف پھول اگانا نہیں بلکہ کاشت سے لے کر تجارتی سطح تک پوری ویلیو چین کا مطالعہ اور فروغ تھا۔

آج زرعی یونیورسٹی پشاور میں بطور استاد اور محقق، میری توجہ آرائشی باغبانی میں پیداواری سائنس کو بعد از برداشت انتظام، ویلیو ایڈیشن اور موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں پائیدار نظام سے ہم آہنگ کرنے پر مرکوز ہے۔ گزشتہ برسوں میں ایک حقیقت واضح ہوتی گئی کہ محض پیداوار فلوریکلچر کے شعبے کو مستحکم نہیں بنا سکتی؛ اصل معاشی اثر ویلیو ایڈیشن میں پوشیدہ ہے۔

پاکستان میں فلوریکلچر زیادہ تر تازہ پھول اگانے اور مقامی منڈیوں میں فروخت کرنے تک محدود ہے۔ اگرچہ یہ فوری طلب پوری کرتا ہے، مگر اس میں شامل حقیقی قدر پوری طرح حاصل نہیں کی جاتی۔ عالمی سطح پر فلوریکلچر اربوں ڈالر کی صنعت ہے جو منظم ویلیو چین، معیار کی یقین دہانی، بعد از برداشت ٹیکنالوجی، مصنوعات کی تنوع، برانڈنگ اور برآمدی نظام پر قائم ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان میں یہ شعبہ موزوں موسمی حالات کے باوجود بڑی حد تک غیر منظم ہے۔

اسی خلا کو مدنظر رکھتے ہوئے ہماری تحقیقی ٹیم نے ایچ ای سی کے این آر پی یو پروگرام کے تحت “ٹیوبر روز کی پیداواری ٹیکنالوجی کی بہتری اور ویلیو ایڈیشن” کے عنوان سے ایک منصوبہ مکمل کیا۔ اس کا مقصد صرف Polianthes tuberosa کی پیداوار بڑھانا نہیں تھا بلکہ یہ ثابت کرنا تھا کہ پھولوں کو تجارتی طور پر قابلِ عمل اور اعلیٰ قدر کی مصنوعات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

کمرشل فلوریکلچر اینڈ ویلیو ایڈیشن لیبارٹری کے قیام کے ذریعے کئی مارکیٹ پر مبنی مصنوعات تیار اور معیاری بنائی گئیں، جن میں شامل ہیں:

زیادہ دیر تک تازگی برقرار رکھنے والے کٹ فلاورز

رنگین اور ٹنٹڈ آرائشی پھول

سائنسی بنیادوں پر تیار کردہ ویز پریزرویٹو محلول

خوشبودار پودوں کے عرق

عرقِ گلاب اور ہائیڈروسول

خوشبودار موم بتیاں

پھولوں کی خوشبو والے صابن اور شیمپو

اور مقامی طور پر کاشت شدہ خوشبودار پھولوں سے تیار کردہ پرفیوم

یہ تمام مصنوعات اس بات کی عملی مثال ہیں کہ کس طرح جامعاتی تحقیق کو صنعت اور کاروبار سے جوڑا جا سکتا ہے۔ وہ پھول جو پہلے صرف تازہ ڈنٹھل کی صورت فروخت ہوتے تھے، اب بہتر، برانڈڈ اور متنوع مصنوعات کی شکل میں منڈی تک پہنچ سکتے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں کھلے میدان اور محفوظ کاشت کے نظام کے تحت فلوریکلچر کے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ اگر اچھے زرعی طریقہ کار (GAP)، بہتر بعد از برداشت انتظام اور ویلیو ایڈیشن کے اقدامات اپنائے جائیں تو یہ صوبہ علاقائی سطح پر مسابقتی مقام حاصل کر سکتا ہے۔

فلوریکلچر محض سجاوٹ کا نام نہیں۔ یہ دیہی روزگار، خواتین کی چھوٹے پیمانے کی کاروباری سرگرمیوں، نوجوانوں کی انٹرپرینیورشپ اور مقامی صنعت کے فروغ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ پھولوں کو خوشبو، کاسمیٹکس اور خصوصی مصنوعات میں تبدیل کرنا روایتی منڈیوں سے کہیں آگے مواقع فراہم کرتا ہے۔

مزید برآں، آرائشی باغبانی ماحولیاتی استحکام میں بھی کردار ادا کرتی ہے۔ لینڈ اسکیپنگ، شہری شجرکاری، خوشبودار اور ادویاتی پودوں کی کاشت اور ایکو ٹورازم جیسے اقدامات حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور شہری ماحول کی بہتری میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ اگر انہیں مربوط انداز میں فروغ دیا جائے تو فلوریکلچر معاشی اور ماحولیاتی دونوں حوالوں سے حل پیش کر سکتا ہے۔

پھولوں سے خوشبو تک کا سفر دراصل تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح ایک شوق پیشے میں ڈھل سکتا ہے اور ایک پیشہ قومی سطح کے مشن میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ دو دہائیوں پر محیط تجربے نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ تحقیق کو محض اشاعت تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے عملی ماڈلز کی صورت اختیار کرنی چاہیے جو کاشتکاروں، کاروباری افراد اور معاشرے کے لیے فائدہ مند ہوں۔

پاکستان میں فلوریکلچر کے شعبے کو آگے بڑھانے کے لیے مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔ پالیسی سازی میں ویلیو ایڈیشن کی حوصلہ افزائی، جامعات اور صنعت کے درمیان روابط کا فروغ، کاشتکاروں کی تربیت، اور برآمدی تیاری و برانڈنگ کی حکمتِ عملی ناگزیر ہیں۔

پھول تو فطری طور پر کھلتے ہیں، مگر خوشبو کو محفوظ کرنے کے لیے سائنسی مہارت، جدت اور بصیرت درکار ہوتی ہے۔

پاکستان کے فلوریکلچر کا مستقبل صرف پھول اگانے میں نہیں بلکہ انہیں دیرپا قدر میں تبدیل کرنے میں مضمر ہے۔

ڈاکٹر مسعود احمد زرعی یونیورسٹی پشاور کے شعبہ ہارٹیکلچر سے وابستہ ہیں، جن کی تحقیق آرائشی باغبانی، فلوریکلچر، خوشبودار و ادویاتی پودوں کی ویلیو چین اور بعد از برداشت انتظام پر مرکوز ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed