اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران پر حالیہ حملوں کے بعد خطے میں غیر معمولی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ مشرق وسطی ایک بار پھر کشیدگی کے ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں ہر فیصلہ نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی اور اقتصادی اثرات بھی مرتب کرتا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کی جانب سے اپنی فضائی حدود کی کڑی نگرانی اور ائیرٹریفک کنٹرولرز کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت ایک بروقت اور ذمہ دارانہ اقدام ہے۔
خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال نے یہ واضح کر دیا ہے کہ فضائی حدود محض جغرافیائی حدود نہیں بلکہ سٹریٹیجک اثاثہ بھی ہیں۔ پاکستان چونکہ ایران اور افغانستان کے ہمسایہ خطے میں واقع ہے اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی غیر معمولی سرگرمی کے اثرات براہ راست محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ اسی پس منظر میں ائیرٹریفک کنٹرولرز کو ایران اور افغانستان ریجن کی خصوصی نگرانی کی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں فوری ردعمل دیا جا سکے۔ذرائع کے مطابق پاکستانی ائیرلائنز کو ایرانی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔ یہ فیصلہ وقتی طور پر مسافروں کے لیے سفری دورانیہ اور اخراجات میں اضافہ کر سکتا ہے مگر قومی سلامتی اور پروازوں کی حفاظت ہر صورت مقدم ہے۔ عالمی فضائی قوانین کے تحت کسی بھی ملک کی پہلی ذمہ داری اپنے شہریوں اور فضائی ٹریفک کا تحفظ ہے اور پاکستان نے اسی اصول کو مدنظر رکھا ہے۔پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ علاقائی ایئر اسپیس کی کشیدہ صورتحال کے باوجود پاکستان کی فضائی حدود مکمل طور پر فعال اور محفوظ ہیں۔ خاص طور پر کراچی ریجن میں ایئر اسپیس کی دستیابی اور سلامتی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ یہ بیان نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی ایئرلائنز کے لیے اعتماد کا پیغام ہے کہ پاکستان اپنی فضائی حدود کے موثر انتظام کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی حکام کی جانب سے جاری کردہ نوٹم A0715/26 کے مطابق تہران ایئر اسپیس مخصوص اوقات کے لیے بند کر دی گئی ہے۔ پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 1130 سے 1700 بجے تک تہران کی فضائی حدود میں سول طیاروں کی آمد و رفت محدود رہے گی۔ اس فیصلے کا براہ راست اثر مشرقی اور مغربی ٹرانزٹ ٹریفک پر پڑے گا۔ اگر یہ پابندی 1700 PKT کے بعد بھی برقرار رہتی ہے تو طویل فاصلے کی بین الاقوامی پروازیں متبادل راستوں کا انتخاب کریں گی جس کے نتیجے میں پاکستانی فضائی حدود سے گزرنے والی اوورفلائٹ ٹریفک میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔یہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک چیلنج بھی ہے اور موقع بھی۔ چیلنج اس اعتبار سے کہ اچانک اوورفلائٹ ٹریفک میں اضافہ ایئرٹریفک کنٹرول سسٹم پر اضافی دبائو ڈال سکتا ہے۔ رات کے اوقات میں جب عام طور پر طویل فاصلے کی پروازوں کا رش بڑھ جاتا ہے اس وقت اضافی نگرانی جدید ریڈار کوریج اور فوری رابطے کا موثر نظام ناگزیر ہو جاتا ہے۔ دوسری جانب یہ ایک موقع بھی ہے کیونکہ اوورفلائٹ فیسز کی مد میں پاکستان کو اضافی ریونیو حاصل ہو سکتا ہے جو ملکی معیشت کے لیے مثبت ثابت ہو سکتا ہے۔تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کسی بڑے تصادم کی طرف اشارہ کر رہی ہے؟ اگر اسرائیل اور امریکا کی کارروائیاں محدود رہتی ہیں تو ممکن ہے کہ کشیدگی وقتی ہو لیکن اگر یہ صورتحال وسیع پیمانے پر پھیلتی ہے تو فضائی راستوں توانائی کی ترسیل اور عالمی تجارت پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان کو اس ممکنہ منظرنامے کے لیے سفارتی اور انتظامی سطح پر مکمل تیاری رکھنی ہوگی۔پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کی داعی رہی ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ اسلام آباد نہ صرف اپنی فضائی حدود کے تحفظ کو یقینی بنائے بلکہ سفارتی سطح پر بھی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں فعال کردار ادا کرے۔ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پاکستان کو غیر جانبدار رہتے ہوئے امن کی اپیل جاری رکھنی چاہیے۔موجودہ حالات اس امر کا تقاضا کرتے ہیں کہ قومی سلامتی کے تمام ادارے ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں۔ ایوی ایشن سیکٹر دفاعی ادارے اور خارجہ محکمے کے درمیان موثر رابطہ نہایت اہم ہے۔ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کسی بھی وقت نئی جہت اختیار کر سکتی ہے اس لیے پیشگی تیاری اور بروقت فیصلے ہی پاکستان کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔آخرکار فضائی حدود کی نگرانی صرف تکنیکی معاملہ نہیں بلکہ قومی وقار اور خودمختاری کا مسئلہ بھی ہے۔ موجودہ کشیدہ ماحول میں پاکستان کا محتاط ذمہ دار اور متوازن رویہ ہی اسے علاقائی عدم استحکام کے اثرات سے بچا سکتا ہے۔md.daud78@gmail.com







