پیٹرولیم قیمتوں میں متوقع اضافہ عوام پر ایک اور بوجھ

16 فروری سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فی لیٹر 6 روپے 55 پیسے تک اضافے کا امکان ایک بار پھر عوام کے لیے تشویش کی نئی لہر لے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پیٹرول، ہائی سپیڈ ڈیزل، مٹی کا تیل اور لائٹ ڈیزل آئل سبھی مہنگے ہونے جا رہے ہیں جس کا براہ راست اثر عام شہری کی روزمرہ زندگی پر پڑے گا۔ مہنگائی کے موجودہ طوفان میں یہ اضافہ جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔ذرائع کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 39 پیسے، ہائی سپیڈ ڈیزل میں 5 روپے 40 پیسے، مٹی کے تیل میں 4 روپے جبکہ لائٹ ڈیزل آئل میں 6 روپے 55 پیسے فی لیٹر تک اضافے کا امکان ہے۔ ان قیمتوں کی ورکنگ مکمل ہونے کے بعد آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی اپنی سمری پیٹرولیم ڈویژن، وزارت توانائی کو ارسال کرے گی جس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری سے نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔یہ اضافہ ایسے وقت میں متوقع ہے جب عوام پہلے ہی مہنگائی بے روزگاری اور کم ہوتی قوت خرید کے باعث شدید دبائو کا شکار ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مزید مہنگائی اور کاروباری لاگت میں اضافہ اس فیصلے کے فوری نتائج ہوں گے۔ خاص طور پر دیہاڑی دار مزدور، کم آمدنی والے طبقے اور دیہی علاقوں کے لوگ اس اضافے سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہمیشہ عالمی منڈی کی تبدیلیوں اور حکومتی پالیسیوں سے جڑی رہی ہیں۔ اگرچہ حکومت اکثر عالمی تیل کی قیمتوں اور ڈالر کی قدر کو اضافے کی وجہ قرار دیتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس کا سارا بوجھ صرف عوام پر ڈال دینا ہی واحد حل ہے؟ کیا حکومتی اخراجات میں کمی، غیر ضروری مراعات کے خاتمے اور بہتر مالی نظم و ضبط کے ذریعے عوام کو کچھ ریلیف نہیں دیا جا سکتا؟یہ بھی حقیقت ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف سفری اخراجات تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے، زراعت متاثر ہوتی ہے اور اشیائے ضروریہ مزید مہنگی ہو جاتی ہیں۔ نتیجتا مہنگائی کا ایک نیا چکر شروع ہو جاتا ہے، جس کا خاتمہ آسان نہیں ہوتا۔حکومت کو چاہیے کہ وہ قیمتوں میں اضافے سے قبل عوام کو اعتماد میں لے اور شفاف انداز میں وجوہات بیان کرے۔ محض نوٹیفکیشن جاری کر دینا مسئلے کا حل نہیں۔ ضروری ہے کہ کم آمدنی والے طبقے کے لیے خصوصی ریلیف پیکجز، سبسڈی یا متبادل سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ اس بوجھ کو برداشت کر سکیں۔اس کے ساتھ ساتھ توانائی کے متبادل ذرائع، جیسے سولر اور ونڈ پاور کے فروغ پر بھی سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم درآمدی تیل پر انحصار کم نہیں کریں گے اس طرح کے اضافے بار بار عوام کی مشکلات میں اضافہ کرتے رہیں گے۔ اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متوقع اضافہ حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ اگر اس فیصلے کے ساتھ عوام دوست اقدامات نہ کیے گئے تو عوامی بے چینی میں مزید اضافہ ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پالیسی سازی میں عوامی مفاد کو اولین ترجیح دی جائے تاکہ مہنگائی کے اس دور میں شہریوں کو کچھ سہارا مل سکے اور معاشی استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔md.daud78@gmail.com

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed