سابق ایس ایچ او جاوید مروت کی قید کی سزا معطل

شعیب جمیل

پشاور ہائیکورٹ نے منشیات کیس میں اختیارات کے ناجائز استعمال پر ایک سال کی سزا پانے والے سابق ایس ایچ او چمکنی جاوید مروت کی سزا کے خلاف دائر اپیل سزا معطل کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کردیا ۔کیس کی سماعت چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کی۔اس موقع پر ملزم ایس ایچ او کے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ ایس ایچ او جاوید مروت کو سیشن کورٹ نے ایک سال قید اور پچاس ہزار جرمانہ کردیا ہے ، اور یہ فیصلہ 13 اکتوبر کو جاری کردیا ہے کیونکہ اس پر الزام تھا کہ اس نے منشیات مقدمے میں دو ملزمان کو نامزد کیا تھا ، ماتحت عدالت نے دونوں ملزمان کو شک کے بنیاد پر مقدمے سے بری کردیا جبکہ ایس ایچ او کو خیبر پختونخوا منشیات ایکٹ 2019 کے سیکشن 32 کے تحت شوکاز نوٹس جاری کردیا ، شوکاز نوٹس کے بعد ماتحت عدالت نے اس کو ایک سال قید اور پچاس ہزار روپے جرمانہ کردیا ۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ شک کی بنیاد پر منشیات مقدمے سے بریت کے بعد متعلقہ پولیس آفیسر کو سزا نہیں ہوسکتی اس حوالے سے اعلی عدالتوں کے فیصلے موجود ہیں اس کے ساتھ ساتھ اسکے خلاف باقاعدہ ٹرائل نہیں چلایا گیا اور سزا دی گئی ،سزا آئین کے آرٹیکل 10 اے کے خلاف ہے لہذا کالعدم کردی جائے ، عدالت نے سزا کے خلاف دائر اپیل سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے ایس ایچ کی سزا معطل کر دی اور متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed