تحریر: عدنان بشیر
یومِ شہداء پولیس (4 اگست) کے موقع پر خیبر پختونخوا پولیس کے عظیم سپوت، ڈی آئی جی ملک محمد سعد شہید کی بے مثال قربانی کو پورے قومی احترام کے ساتھ یاد کیا جا رہا ہے۔ وہ ان عظیم افسران میں شامل تھے جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جان کا نذرانہ دے کر فرض شناسی، دلیری اور ایثار کی ایک ایسی مثال قائم کی جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے۔
ملک محمد سعد ایک بہادر، بااصول، اور نڈر پولیس افسر تھے جنہوں نے پورے کیریئر میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہمیشہ صفِ اول میں کردار ادا کیا۔ 27 جنوری 2007 کو محفل میلاد کے موقع پر پشاور میں ایک خودکش حملے میں وہ اس وقت شہید ہوئے جب وہ عوام کے ساتھ کھڑے تھے۔ اُن کی موجودگی وہاں صرف ڈیوٹی کا تقاضا نہیں تھی، بلکہ وہ اپنے شہریوں کے ساتھ خوشی کی گھڑی بانٹنے وہاں پہنچے تھے۔ یہی جذبہ انہیں دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔
یومِ شہداء پولیس کی تقریبات میں ملک سعد شہید کو خصوصی طور پر خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اُن کے مزار پر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی، پھولوں کی چادر چڑھائی گئی اور اُن کے اہل خانہ کو ادارے کی طرف سے خراج تحسین پیش کیا گیا۔ پولیس افسران و جوانوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ شہداء کے مشن کو ہر قیمت پر جاری رکھیں گے۔
ملک سعد شہید نہ صرف ایک پولیس افسر تھے بلکہ وہ ایک وژنری قائد، نرم دل انسان، اور قوم کے حقیقی ہیرو تھے۔ اُن کی قربانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ امن کی راہ میں سب سے بڑی قیمت جان کی ہوتی ہے، اور خیبر پختونخوا پولیس کے ان شہداء نے یہ قیمت ادا کر کے قوم کو سرخرو کیا ہے۔
ان کی یاد ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ پاکستان کے محافظ کبھی تنہا نہیں ہوتے، ان کا خون قوم کی رگوں میں دوڑتا ہے۔







