ضلع کرم میں قبائل کا پولیس چوکی پر دھاوا’ حولدار زخمی ‘ حالات کشیدہ

ضلع کرم کے سرحدی علاقہ مقبل قبائل کے جانب سے شدت پسندوں نے کنج علیزئی پہاڑی علاقے میں تعینات پولیس چوکی پر حملے میں خولدار نواب حسین شدید زخمی ہو گیا ۔ پولیس کے جوابی کارروائی سے شدید پسندوں نے غوزگڑی گائوں کے طرف بھاگنے میں کامیاب ہو گئے ہیں ۔زخمی حوالدار کو کنج علیزئی کے مقامی باشندوں کے مدد سے ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا اور ہسپتال سے فوری طور پشاور روانہ کیا گیا ۔علاقے کے مشران نے کہا کہ پولیس چوکی پر فائرنگ میں ملوث مقبل قبائل کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔پاراچنارڈسٹرکٹ کرم میں مسلسل 23 روز سے مین ٹل پاراچنار شاہراہ آمدورفت کے لئے بند ہونے کے باعث تعلیمی ادارے چھٹے روز بھی بند ہیں اور تیل ،اشیائیخوردونوش اور ادویات کی قلت کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات درپیش ہیں ضلع کرم میں مسافر گاڑیوں پر فائرنگ کے واقعے کے بعد تین ہفتوں سے معمولات زندگی بحال نہیں ہورہے ہیں مسلسل بائیس روز سے مین شاہراہ کی بندش کے باعث اشیا خوردونوش تیل اور ادویات ختم ہو گئی ہیں جس سے شہریوں کو شدید مشکلات درپیش ہیں راستوں کی بندش اور ایندھن حتم ہونے سے گذشتہ چھ روز سے پاراچنار میں تمام تر تعلیمی ادارے بھی بند کردئیے گئے ہیں اور شہریوں نے پاراچنار کے میں چوک پر احتجاجی دھرنا شروع کردیا ہے طوری بنگش قبائل کے راہنما جلال بنگش اور علامہ تجمل حسین نے پائیدار امن کے قیام اور راستے کھول کر محفوظ بنانے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر حکومت اور ذمہ دار اداروں نے امن کے لئے فوری اقدامات نہ کئے تو طویل عرصے سے بد امنی کا شکار اور امن کے لئے ترسنے والے علاقے کے تمام قبائل حکومت کے سامنے بھیٹینگے اور امن کی بھیک مانگنے کے لئے مشترکہ جدوجہد کرینگے ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گرینڈ امن جرگہ فریقین کے عمائیدین سے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں اور قیام امن کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed