راولپنڈی: لیبیا سے ڈی پورٹ ہو کر اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچنے والے 12 پاکستانی شہریوں کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ایف آئی اے امیگریشن نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر ان شہریوں کو تحویل میں لینے کے بعد مزید قانونی چارہ جوئی کے لیے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل راولپنڈی کے حوالے کر دیا ہے۔
ابتدائی تفتیشی عمل کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ مختلف ایجنٹوں نے بیرونِ ملک برائے روزگار ملازمت کا جھانسہ دے کر ان شہریوں کو وزٹ اور عمرہ ویزوں پر پاکستان سے پہلے دبئی اور مصر روانہ کیا اور وہاں سے لیبیا پہنچایا۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق لیبیا سے ان افراد کو سمندری کشتیوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر اٹلی میں داخل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
درج کیے گئے مقدمے میں مختلف ایجنٹوں کو نامزد کیا گیا ہے جن پر شہریوں سے بھاری رقم وصول کرنے اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے شدید الزامات ہیں۔ ایف آئی اے کے مطابق کیس میں نامزد شہریوں میں محمد عدنان حیدر، محمد جمال، نبیل احمد، ثاقب شبیر، محمد فیضان، سجاد محمود، محمد اخلاق، محمد انیس، روحیل تعمیر، رحمان خالد، ثاقب علی اور عارف حسین شامل ہیں۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ کیس سے منسلک دیگر ملوث افراد کے کردار کا تعین تفتیش کے اگلے مراحل میں کیا جائے گا، جبکہ اس کیس کی باقاعدہ تفتیش انسپکٹر محمد عبداللہ کیانی کے سپرد کی گئی ہے۔ ایف آئی اے اسلام آباد زون نے اعادہ کیا ہے کہ انسانی اسمگلنگ اور شہریوں کو غیر قانونی ذرائع سے بیرونِ ملک بھجوانے میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔







