پی ٹی آئی رہنما سینیٹر مشعال یوسفزئی نے کہاہے کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھے، پوری کوشش کررہے ہیں، اس وقت بیرسٹر گوہر عمران خان کے علاج اور ملاقات کے معاملات کو محسن نقوی کے ذریعے دیکھ رہے ہیں، ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھے، پوری کوشش کررہے ہیں۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس بیرسٹر سیف ہیں، وہ کھلم کھلا کہتے ہیں ان کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بہت اچھے روابط ہیں، بلکہ عمران خان جب اڈیالہ میں میڈیا سے ملتے تھے تو ان سے پوچھا جاتا تھا کہ آپ کی پیغام رسانی کن کے ذریعے ہوتی ہے تو وہ کہتے تھے کہ بیرسٹر سیف کے ذریعے ہوتی ہے۔میرا خیال میں ہمیں عمران خان سے رابطہ کرنا ہے، ان کے علاج کی راہ ہموار کرنی ہے، عمران خان سے فیصل سلطان سے ملاقات کرانی ہیں، اس لئے ہم اپنی کوشش کررہے ہیں، ایسا نہیں ہے کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے ہیں۔اس وقت بیرسٹر گوہر اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔وہ کہہ رہے ہیں کہ محسن نقوی کے ذریعے اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں اس لئے ہم بھی انتظار کررہے ہیں۔ انصاف ہوگا تو پاکستان مستحکم ہوسکتا ہے، ہم عدالتوں میں جارہے ہیں، ہم نے بائیکاٹ نہیں کیا۔مشعال یوسفزئی نے کہا کہ شوکت بسرا کو نہیں جانتی، ان کے بارے میں کوئی ٹویٹ نہیں کیا، 79 ایم پی ایز کا جو کرنے کا ارادہ ہے انہیں سپورٹ کرتی ہوں، ان کی ترجمان ہوں، 79ایم پی ایز عمران خان کی مرضی کے بغیر کوئی اقدام نہیں لینا چاہیں گے، 79 ایم پی ایز کو آفرز آرہی ہیں وہ نہیں مان رہے، پارٹی سیکریٹری جنرل 79 ایم پی ایز کو حکمت عملی نہیں دے رہے، لانگ مارچ جاری ہے تو حکمت عملی دی جائے۔مشعال یوسفزئی نے کہا کہ نئے صوبوں سے متعلق عمران خان کے بیانات موجود ہیں، وہ صوبوں کے حق میں تھے اور یہ ان کا ہی وژن تھا۔ عمران خان کی رہائی کے بدلے نئے صوبوں پر مشروط حمایت کر سکتے ہیں۔







