خیبرپختونخوا کے ضم اضلاع اور سب ڈویژنز میں 50 سال سے زائد عمر کے 2 ہزار 627 سابق لیویز وخاصہ دار اہلکاروں کی ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، اس فیصلے سے سب سے زیادہ تعداد ضلع مہمند کے اہلکاروں کی متاثر ہو سکتی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق 50 سال سے زائد عمر کے ان اہلکاروں کی رینک وار فہرست تیار کر لی گئی ہے، جس میں انسپکٹرز سے لے کر کانسٹیبلز تک مختلف عہدوں پر تعینات اہلکار شامل ہیں۔دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ریٹائرمنٹ کی فہرست میں 3 انسپکٹرز، 59 سب انسپکٹرز، 56 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز، 146 ہیڈ کانسٹیبلز اور 2 ہزار 362 کانسٹیبل شامل ہیں۔پولیس ذرائع سے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق ضلع مہمند 1,048 اہلکاروں کے ساتھ فہرست میں پہلے نمبر پر ہے، ان میں ایک انسپکٹر، 6 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز، 12 ہیڈ کانسٹیبلز اور 1,031 کانسٹیبل شامل ہیں۔دیگر اضلاع میں ضلع خیبر کے 315، ضلع کرم کے 288، اورکزئی کے 229، شمالی وزیرستان کے 212 اور باجوڑ کے 142 اہلکاروں کی عمر 50 سال سے زائد ظاہر کی گئی ہے۔فہرست کے مطابق بنوں سب ڈویژن میں 50 سال سے زائد عمر کے مجموعی طور پر 152 اہلکار شامل ہیں، جن میں ایک سب انسپکٹر، 3 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز، 4 ہیڈ کانسٹیبلز اور 144 کانسٹیبل شامل ہیں۔اسی طرح ڈیرہ اسماعیل خان سب ڈویژن میں 98، ٹانک سب ڈویژن میں 64 اور لکی مروت سب ڈویژن میں 24 اہلکار شامل ہیں۔جنوبی وزیرستان اپر میں 55 اہلکاروں کا اندراج ہے، جن میں 5 سب انسپکٹرز، 4 ہیڈ کانسٹیبلز اور 46 کانسٹیبل شامل ہیں، جبکہ جنوبی وزیرستان لوئر کے سامنے دستیاب فہرست میں کوئی تعداد درج نہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق 50 سال سے زائد عمر کے سابقہ لیویز وخاصہ دار اہلکاروں کی ریٹائرمنٹ سے متعلق فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی اعلامیہ تاحال جاری نہیں کیا گیا۔ اعلامیہ جاری ہونے کے بعد ریٹائرمنٹ اور مستقبل کے حوالے سے پالیسی مزید واضح ہو سکے گی۔







