خیبر پختونخوا میں صنعتی فروغ کے لیے منصفانہ ٹیکس نظام ضروری ہے، معظم بٹ

معروف قانون دان معظم بٹ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں اسٹیل ملز کا کاروبار مشکل ہوتا جا رہا ہے، جبکہ ایف بی آر کے روزانہ جاری ہونے والے نئے اعلامیوں اور بدلتے طریقہ کار سے سرمایہ کار شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ صوبے میں پہلے ہی کاروباری سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں، ایسے میں ایف بی آر کے نت نئے تجربات صنعت کاروں کے لیے مزید مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لیگل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان اکنامک فورم (ایل آر آئی پی) کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ معظم بٹ ایڈووکیٹ نے کہا کہ صنعتی سرگرمیوں کے فروغ، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے منصفانہ ٹیکس نظام، شفاف قوانین اور مؤثر حکومتی نگرانی ناگزیر ہے۔ صنعتی اداروں کو درپیش مسائل کے حل اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے متعلقہ سرکاری اداروں اور صنعت کاروں کو باہمی مشاورت سے جامع حکمت عملی مرتب کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبے میں قانون کی یکساں عمل داری، ٹیکسوں کا منصفانہ تعین اور کاروباری اداروں کو قانونی تحفظ فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو چاہیے کہ صنعتی یونٹس کی رجسٹریشن اور نگرانی کے لیے ایسا نظام وضع کرے جس سے ٹیکس قوانین پر عمل درآمد کے ساتھ صنعت کاروں کو غیر ضروری مشکلات سے بھی بچایا جا سکے۔تقریب کے شرکاء نے کہا کہ صنعتی اداروں کے لیے ٹیکس نظام کو آسان اور شفاف بنانے کے ساتھ بجلی، انٹرنیٹ اور دیگر بنیادی سہولتوں کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔ غیر واضح پالیسیوں اور غیر منصفانہ ٹیکس اقدامات سے فیکٹریوں کی بندش، سرمایہ کاری میں کمی اور بے روزگاری میں اضافے کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔مقررین نے مطالبہ کیا کہ ایس آر اوز کے اجرا میں شفافیت، کاروبار دوست پالیسیوں اور صنعت کاروں کے مسائل کے حل کو ترجیح دی جائے تاکہ خیبر پختونخوا میں صنعتی سرگرمیوں کو فروغ ملے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو اور مقامی افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed