ادویات میں ڈیڑھ ارب خردبرد، ڈاکٹر ارشاد کی عبوری ضمانت خارج

حتساب عدالت پشاور نے سرکاری ہسپتالوں کے لیے ادویات کی خریداری میں سنگین بے ضابطگیوں اور غبن کے کیس میں نامزد محکمہ صحت کے ڈاکٹر ارشاد کی عبوری ضمانت کی درخواست عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کر دی ہے۔ احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے کیس کی سماعت کی، جس کے دوران ملزم عدالت میں پیش نہ ہوا، جس پر فاضل عدالت نے ان کی درخواستِ ضمانت مسترد کرنے کا حکم جاری کیا۔سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ صحت کی جانب سے سرکاری ہسپتالوں کے لیے تقریباً تین ارب روپے کی ادویات کی خریداری کی گئی تھی، جس میں سے ملزم ڈاکٹر ارشاد پر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اور نجی دوا ساز کمپنیوں کے سپلائرز کے ساتھ مبینہ ملی بھگت سے ڈیڑھ ارب روپے سے زائد کی خردبرد کا سنگین الزام ہے۔ نیب پراسیکیوٹر کے مطابق اس مبینہ مالی غبن کی وجہ سے قومی خزانے کو ایک ارب روپے سے زائد کا شدید نقصان پہنچا ہے۔نیب کے پراسیکیوٹر نے استدعا کی کہ ملزم عدالتی کارروائی کے دوران مسلسل غیر حاضر رہا ہے اور سماعت کے وقت بھی عدالت میں پیش نہیں ہوا، لہٰذا ان کی عبوری ضمانت منسوخ کی جائے۔ احتساب عدالت نے نیب کے دلائل سننے کے بعد عدم پیروی پر ملزم ڈاکٹر ارشاد کی عبوری ضمانت کی درخواست خارج کرنے کا فیصلہ سنایا، جس کے بعد ملزم کی گرفتاری کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed